سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 161
191 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر آپ کا روز و شب بڑھتا ہوا ایمان حضرت مرزا محمود احمد صاحب نے جس فضا میں بچپن گزارا اس کا ایک مختصر نقشہ گذشتہ باب میں کھینچا گیا ہے۔دو برعکس اور متقابل زاویوں سے آپ نے اپنے باپ کو دیکھا۔ایک طرف معاندین او اعداء کی یہ کثرت اور عداوت کی یہ شدت تھی تو دوسری طرف یقین و معرفت کے ہتھیاروں سے مسلح ایک روز و شب بڑھنے والی عاشقوں اور جاں نثاروں کی وہ چھوٹی سی جماعت تھی جو پروانہ وار آپ کے گرد جمع ہو رہی تھی۔ایک زاویہ نگاہ سے آپ کے والد دنیا والوں کی نظر میں ہی مغضوب و مقہور نہیں بلکہ خود عرش کے خدا کی شدید نفرت اور قہر کا نشانہ تھے تو دوسرے زاویہ کی رُو سے آپ خدا کے ایک فرستادہ اور محبوب بندے تھے جن پر خدا والوں کی ایک جماعت اذن کی منتظر ہر دم جاں نثار کرنے کو تیار کھڑی تھی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ان دونوں متضاد زاویہ ہائے نگاہ سے کئے گئے ان مخالف نظاروں میں سے کسی کا اثر آپ کی طبیعت پر غالب آیا ؟ کس کو آپ نے ٹھوس حقیقت سمجھا اور کس کو محض نظر کا ایک غریب جانا ہے۔یہ فیصلہ آپ کے لئے چنداں مشکل نہ تھا۔ایک کمزور فر د بشر کے گرد جمع ہوتے ہوئے چند کمزور انسانوں کو آپ نے لاکھوں کروڑوں جابر انسانوں کے نرغے میں گھرے ہوئے دیکھا جو یہ دعوی بھی رکھتے تھے کہ رش کا خدا انہی کے ساتھ ہے۔لیکن ہر بار جب وہ حضرت مرزا صاحب اور ان کے مٹھی بھر ساتھیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوئی کوشش کرتے تو بری طرح ناکام اور خائب و خاسر ہو جاتے۔نابود کرنا تو در کنار وہ اُن کی جمعیت کو ذرہ بھر پریشان کرنے پر بھی قدرت نہ پا سکے۔اس کے برعکس ہر حملے اور پر یلغار کے بعد حضرت مرزا صاحب اور آپ کے متبعین کی طاقت کیا بلحاظ کمیت اور کیا بلحاظ کیفیت پہلے سے بڑھتی ہی چلی گئی اور ہر بار معرکہ آرائی کا گرد و غبار چھٹنے کے بعد آپ نے اس بظاہر کمزور اور ناتواں جماعت کو خاک مذلت میں ٹوٹتا ہوا دیکھنے کی بجائے عزت و مرتبت کے بلند تر مقامات پر جلوہ افروز پایا یکے بعد دیگرے آپ نے اپنے بزرگ والد کے مخالفین کو اُن کی بربادی کی حسرت لئے ہوئے اس دنیا سے