سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 162 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 162

۱۶۲ رخصت ہوتے دیکھا۔کیا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور کیا ڈوئی اور کیا لیکھرام ، ایک کے بعد دوسرے نے آپ کو نیچا دکھانے کا دعوی کیا اور خدا تعالیٰ کی نصرت کا ادعا لے کر اٹھا لیکن ایک کے بعد دو مصرا اپنی تمام کوششوں کی ناکامی اور اپنی تمام دُعاوں کی نامرادی کا منہ دیکھتا ہوا اس عظیم مذہبی اکھاڑے سے رخصت ہوا۔پھر وہ دن بھی آیا جب کہ حضرت مرزا صاحب کو اپنے رب کے حضور حاضر ہونا تھا۔ایک روز انرش ترقی کرتی ہوئی بڑھتی ہوئی پھلتی پھولتی اور پھلتی ہوئی جماعت آپ کو میسر آچکی تھی جو تنزل کے نام سے نا آشنا تھی۔بلند حوصلے لئے ہوئے ستاروں پر کمندیں ڈالتی ہوئی وہ ہر لحظہ قدم آگے اور صرف آگے بڑھانا جانتی تھی۔حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے یہ دن بھی دیکھا۔یہ وہ دن تھا جب کہ خود آپ کی ہلاکت اور بربادی کی پیشگوئیاں کرنے والے پنڈت لیکھرام کو خائب و خاسر اور بے اولاد مرے ہوئے گیارہ برس گزر چکے تھے۔خدا کس کے ساتھ تھا اور کس کے ساتھ نہیں۔کیا ان حالات میں یہ فیصلہ کرنا اس زیرک نوجوان کے لئے بلکہ دنیا کے کسی بھی صاحب فراست کے لئے کچھ مشکل ہو سکتا تھا۔نہیں اور یقینا نہیں۔اس شدید دنیوی مخالفت کے مقابل پر اللہ تعالیٰ کی قطعی اور لافانی تائیدی شہادت نے حضرت صاحبزادہ صاحب کے قلب و روح پر جو اثر ڈالا وہ اپنے والد کی سچائی پر ایک غیر متزلزل کرے اور محکم ایمان کی صورت میں ظاہر ہوا جسے دنیا کی کوئی قوت کوئی طوفان اور کوئی زلزلہ جنیش نہ دے سکتے تھے۔چنانچہ باپ کی مقدس لاش کے سرہانے کھڑے ہو کر آپ نے اپنے جذبات کے لاوے کو ایک عزم صمیم کی صورت میں ڈھالا اور ایک ایسا عہد کیا جو تاریخی بھی تھا اور تاریخ ساز بھی ! یہ ایک عظیم مشاق تھا جس نے آپ کی بقیہ زندگی کو اپنے مضبوط بندھنوں میں جکڑ دیا اور ایک خاص قوت اور ایک خاص و البیت اور ایک خاص جذبہ شوق کے ساتھ ایک خاص سمت میں ایک خاص راہ پر ہمیشہ ہمیش کے لئے گامزن کر دیا۔اس عہد کا تفصیلی ذکر انگلے باب میں کیا جارہا ہے۔