سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 158
۱۵۸ نیز مسلمانان ہند کو اشتعال دلانے کے لئے لکھا کہ : " فتنہ قادیانی ابھی فتنہ ہے کوئی دن میں قیامت ہوگا۔اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے مذہب وامن میں زیر دست انقلاب واقع ہونے کا اندیشہ ہے اس لئے اشاعۃ السنہ کا رسالہ اس کی سرکوبی کے لئے مخصوص کر دیا گیا ہے، لہ۔۔اس اعلان کے منظر عام پر آنے سے ملک بھر میں مخالفت کا طوفان بے تمیزی کھڑا ہو گیا۔خود مولوی محمد حسین صاحب بیالوی نے حق کی آواز کو دبانے کا فیصلہ کر کے ہر لمحہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت میں وقف کر دیا اور اپنی مہم کو کامیاب بنانے کے لئے اسی پرانے حربہ کو آزمانے کی ٹھانی جو ہر یا مور مین اللہ اور امام ربانی کے خلاف استعمال ہوتا آیا ہے یعنی زور بازو سے اس سلسلہ کو مثانے اور منہ کی پھونکوں سے اس چراغ کو نبھانے کے درپے ہو گئے چنانچہ پہلی کوشش اس سلسلہ میں آپ نے یہ فرمائی کہ ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک طوفانی دورہ کیا اور علماء سے حضرت مرزا صاحب کے خلاف کفر و ارتداد کے فتوے حاصل کئے۔پھر ان فتاوی کو قریہ بقری مشتہر کیا اور حضرت مرزا صاحب کے خلاف عوام کے دلوں میں شدید نفرت کا زہر بھر دیا۔خود مولوی صاحب کے اپنے ارشاد کے مطابق : اس عرصہ میں مسلمانوں کے اس دوست نما دشمن عقائد قدیمہ اسلامی کے ریبزن و بیج کن (کاویانی) کے تعاقب میں رہا اور مشکل اور لطائف الجیل جولائی شدہ میں بمقام لدھیانہ اس کو جا پکڑا اور بارہ دن تک خوب رگیدا اور چتھاڑا اور ۲۱ جولائی کو ذلت کی شکست دیکر مار بھگایا۔پھر دہلی میں پچھاڑا۔پھر جب وہ لاہور اور سیالکوٹ پہنچا تو وہاں اس کا پیچھا کیا اور مباحثہ سے صاف و صریح انکار کرا کر بھگا دیا ہے مسلمان علماء میں سے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری پر ہی اکتفا نہیں ہندوستان کا شاید ہی کوئی ایسا عالم دین ہو جو حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت میں سرگرم عمل نہ رہا ہو۔اور شاید ہی کوئی حربہ مخالفت کا ایسارہ گیا ہو جو حضرت اقدس کے خلاف استعمال نہ کیا گیا ہو۔یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ ہندوستان کی اکثر مسجدیں آپ کی مخالفت کا اکھاڑہ بن گئیں اور اکثر منبر ومحراب آپ ہی کے خلاف سب وشتم اور افترا پردازی کے لئے استعمال ہونے لگے۔یہ مخالفت صرف مسلمان مسلید ته اشاعة السنة جلد ۱۴ نمبر اصدا لے اشاعۃ السنہ جلد ۱۳ نمبر ا صت ۴