سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 133 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 133

۱۳۳ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بچپن ہی سے آپ کی طبیعت میں بے تکلفی، انکساری زندہ دلی اور بچوں سے پیار پایا جاتا تھا۔میں طرح پیار سے آپ چھوٹی چھوٹی بچیوں سے بات کرتے ہیں جو خاندانی محافظ سے خادماؤں اور چاکرا نیوں کا درجہ رکھتی ہیں، اُن کی دلجوئی کی خاطر سواری سے اتر کر اسے درخت سے باندھتے ہیں۔یہاں تک کہ ان کا دل خوش کرنے کے لئے پھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے سے بھی گریزد نہیں کرتے۔دیکھتے یہ چھوٹا سا دلچسپ واقعہ ایک بچے کی طبیعت کے کتنے ہی پہلوؤں پر کس عمدگی سے سا روشنی ڈالتا ہے۔بچپن کا زمانہ اس لحاظ سے بہت ہی اہم ہے کہ اس کے سادہ بے ریا اور بے تکلف نظارے کسی انسان کی فطرت سے روشناس کرانے میں بڑی ہی مدد دیتے ہیں، ایک مرتبہ بالہ کے اسٹیشن پر گورداسپور کے ایک ہند و تنیس بابا کانسی رام صاحب جو آپ سے بہت عقیدت رکھتے تھے آپ کی ملاقات کے لئے حاضر ہوئے وہاں گھوڑوں کا تذکرہ چل پڑا تو آپ نے بچپن کا یہ واقعہ بیان کیا: ایک دفعہ بچپن کے ایام میں میں گھوڑے پر سوار ہوا۔گھوڑا تھا منہ زور قصبہ سے باہر نکلتے ہی وہ بے لگام ہو گیا۔میں نے ہر چند اسے روکنے کی کوشش کی مگر وہ نہ رکا۔اس حالت میں موضع بسرانواں کے قریب پہنچ گیا۔جہاں میں نے دیکھا کہ گھوڑا جس سُرخ جا رہا ہے۔اس کے سامنے ایک غیر آباد تغییر منڈیر کے کنواں ہے۔اور اس کے پاس ہی دو چار قدم کے فاصلے پر چند بچے کھیل رہے ہیں۔اس وقت میں نے سوچا اگر اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا ہوں اور بچوں کی طرف گھوڑے کا رخ کرتا ہوں تو میری ایک جان کے کے بدلے کتنی جانیں (بچے) ضائع ہونے کا خطرہ ہے اور اگر ان کو بپتا ہوں۔تو دوسری طرف کنواں ہے۔جس میں گھوڑے کے گرنے کی وجہ سے اپنی جان جانے کا ڈر ہے۔اس وقت میں نے یہی فیصلہ کیا کہ میرا اخلاقی فرض ہے کہ میں اپنی جان کی پرواہ نہ کروں۔چنانچہ میں نے گھوڑے کو سیدھا جانے دیا۔خدا کی شان گھوڑا سرپٹ دوڑ رہا تھا۔بعین کنوئیں کی منڈیر کے پاس پہنچ کر یکدم رک گیا ہے یہ واقعہ کسی تبصرے کا محتاج نہیں۔سوائے اس کے کہ جب انسان خلوص نیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کسی عظیم قربانی کے لئے تیار ہو جاتا ہے تو بسا اوقات اللہ تعالیٰ اس قربانی کی روح له الفضل ۴ مارچ