سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 103 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 103

اے میرے بندہ پرور کر انکونیک اختر رتبہ میں ہوں یہ برتری اور بخش تاج وانسر ہوں تو ہے ہمارا مہر تیرا نہیں ہے ہمسر به روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ تَرانی شیطان سے دور رکھی اپنے حضور کیوں جان پر نور رکھیو دل پر شد در کھیتو ان پر میں تیرے قربان با رحمت ضرور کھیتو یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي میری دعائیں ساری کر یو قبول بازی میں جاؤں تیرے داری کر تو مرد جاری تومدد ہم تیرے در پہ آئے لیکر امی بھاری یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ تَرَانِي لخت جگر ہے میرا محمود بندہ تیرا دے اس کو عمرو دولت کر دُور ہر اندھیرا دن ہوں مُرادوں والے پر ٹور ہو سویرا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَن تَرانی یہ تینوں تیرے بندے رکھیو نہ انکو گی ہے 8 کر ان سے دُور یا رب دنیا کے سامنے پھندے انگوگیرے دنیا جینگے میں ہمیشہ کر یو نہ ان کو مندے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرانی اے میرے دل کے پیارے لیے مہرباں ہمارے کر انکے نام روشن جیسے کہ میں ستارے فضل کر کہ ہو دیں نیکو گھر یہ سارے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَراني اے میری جاں کے جانی اے شاہ دو جہانی 88 کر ایسی مہربانی ان کا نہ ہو وے ثانی دے بخت جاودانی اور فیض آسمانی نیه روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَراني سُن میرے پیارے باری میری دعائیں ساری رحمت سے ان کو رکھنائیں تیسے منہ کےواری اپنی پناہ میں رکھیو سن کر یہ میری زاری یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرانی