سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 83
ایک اُن منی بات ہے۔ہاں مالک کا حق بہر حال قائم رہتا ہے اگر چاہے تو ایسا کرنے سے روک دے۔ایسے موقع پر اگر آپ اپنے صحابہ کو سختی سے ایسا کرنے سے روک دیتے تو عوام الناس پر ایک ایسا متشدد اخلاقی ضابطہ عائد کرنے کے مترادف ہوتا جو تکلیف مالا طاق" کا حکم رکھتا۔بایں ہمہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اخلاق کے جس بلند مقام پر فائز فرمایا تھا اس مقام کے مشکل تر دستور کے مطابق آپ کے حسن کے شفاف چہرے پر یہ ادنی سا خاک کا ذرہ بھی زیب نہ دیتا تھا۔یہ خاک کا ذرہ جیسے عام انسان اپنی نگی آنکھ سے دیکھنے کی بھی استطاعت نہیں رکھتا۔آپ اسے نہ اپنے لئے پسند کرتے تھے نہ اس موعود بیٹے کے لئے جس نے اپنے وقت میں ایک عالم کے اخلاق کو سنوارنے کا بیڑا اٹھانا تھا لیکن آپ خاموش رہے تاکہ ان خدام کی دلآزاری نہ ہو جن کو اس فعل سے روکنا تکلف میں داخل ہو جاتا۔پس اس واقعہ کا حسن آپ کی اس خاموشی میں مضمر ہے جو اپنے لئے اس تیز کو نا پسند کرتے ہوئے بھی آپ نے اختیار فرمائی۔یہ خاموشی ایک بار یک مگر نا قابل تردید دلیل اس بات پر بھی ٹھہرتی ہے کہ اس انسان میں ریا اور عجب کا شائبہ تک نہ پایا جاتا تھا۔ورنہ کیا عمدہ موقع تھا اپنے تقوی کے بلند مقام کی نمائش کا۔جب تک بچے نے مکرر سوال کر کے مجبور نہ کر دیا دل ہی دل میں اپنے اس حسین فیصلہ کو داد دینے والی نگاہوں سے چھپاتے چھپاتے چلتے رہے پھر جب بولنے پر مجبور بھی ہوئے تو منع کرنے کا اندازہ کتنا پیارا ہے۔سوال کے جواب میں ایک چھوٹا سا سوال کر دیتے ہیں۔میاں ! ہمیں یہ تو بتاؤ کہ کس کی اجازت سے یہ مسواکیں حاصل کی گئی ہیں۔کوئی اپنی نیکی کا عجب نہیں، کوئی رعونت نہیں۔نصیحت میں کوئی تلخی نہیں کوئی خشونت نہیں ، مسکراتے ہوئے نرم الفاظ کے لبادے میں طائم یہ سوال ہے "میاں ہمیں یہ تو بتاؤ۔۔۔فضاؤں میں ملک بکھیرنے والے عطر بیز اخلاق بڑے بڑے ٹکڑوں پر نہیں تو لے جاتے بلکہ چھوٹے چھوٹے نرم و نازک واقعات کی ایسی ہی زود جس میزانوں پر سکتے ہیں۔گو اس واقعہ کا تعلق در اصل حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کی سیرت سے ہے ، لیکن یہاں یہ بتانا مطلوب ہے کہ یہ وہ باپ تھا جس کی تربیت کے ساتے تھے محمود پل کر جوان ہوا۔یہ چند نمونے آپ کے انداز تربیت کے ہیں، لیکن خود حضرت مرزا صاحب کے نزدیکب