سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 73 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 73

دوست کی نگاہ محبت آپ پر پڑتی تھی کہ آپ ہی وہ پر موجود ہیں جن کی زندگی کا ایک ایک لمحہ دین اسلام کی خدمت اور سربلندی کے لئے وقف ہو گا اور دشمن کی نظریہ موسوم تمنائے ہوئے تھی کہ کاش یہ بچہ اُن کی آنکھوں کے سامنے بلاک ہو کر ایک مرتبہ پھر اُن کو تمسخر اور استہزا۔کا موقع ہم پہنچائے۔اگر نگاہوں میں کی جانے کی طاقت ہوتی اور اگر دشمن کی تمنائیں خدا کی نظر میں ایک ادنی سا درجہ بھی رکھتیں تو اس بچے کے زندہ رہنے یا پنپنے کا کوئی بھی امکان نہ تھا۔لیکن خدا تعالی کو یہی منظور تھا کہ یہ بچہ اس کی رحمت کے سایہ تلے پرورش پائے اور جلد جلد بڑھے اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے۔تقریباً تین سال قبل پنڈت لیکھرام پشاوری نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے سلسلہ کے نیست ونابود ہونے اور آپ کی نسل کے کاٹے جانے کے بارہ میں جو پیش گوئی کی تھی اس میں بیان کردہ مدت کے پورا ہونے میں بمشکل دو ماہ باقی تھے کہ وہ بچہ پیدا ہوا نہیں اس دو ماہ کے بقیہ عرصہ میں پنڈت لیکھرام کے دل پر جو بیتی ہوگی اس کا حال اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔کس طرح اس نے اس بچے کی موت کی توقعات میں دن کائے اور راتیں بسر کی ہوں گی۔اور کیسی کیسی اس کے دل میں حسرتیں مچلتی ہوں گی کہ کاش یہ لڑکا بھی میری آنکھوں کے سامنے ہلاک ہو کر میرے سینے کی آگ کو ٹھنڈا کر دے۔یقیناً پہلے دونوں بچوں کا نو عمری میں ہی فوت ہو جانا لیکھرام کی ان امیدوں کے لئے ایک قوی بنیاد مہیا کر رہا تھا اور اس کی اس خواہش کا پورا ہونا بظاہر بعید نظر نہیں آنا تھا کہ یہ بچہ بھی تھوڑی مدت زندہ رہ کر پہلے دونوں بچوں کی طرح ہی اپنی ماں کی گود خالی کر جائے گا۔مگر یقینا اللہ تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا۔آسمان پر کچھ اور ہی فیصلے ہو چکے تھے اور اس تقدیر کو کوئی ٹال نہیں سکتا تھا کہ حضرت مرزا صاحب نے نہیں بلکہ خود لیکھرام نے نہایت خائب و خاسر اور نامراد ہو کر بڑی حسرت کے ساتھ اس دنیا سے اُٹھ جانا تھا۔پس ایسا ہی ہوا۔دنوں پر دن گزرتے چلے گئے اور ایک رات کے بعد دوسری رات آتی لیکن نہ تو لیکھرام کی قہر آلود نظریں اس بچے کو بلاک کر سکیں، نہ اس کی بددعائیں اور دشنام طرازیاں اس کا کچھ بگاڑ سکیں۔دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں اور سالوں میں تبدیل ہوئے لیکن لیکھرام کی پیشگوئی کے پورا ہونے کے کوئی آثار پیدا نہ ہوئے۔یہاں تک کہ خود لیکھرام کی نہایت ذلت آمیز اور عبرتناک موت کا وقت آپہنچا اور بعینہ اُسی طرح جس طرح حضرت مرزا صاحب نے چار سال قبل شاہ میں اس کی موت کی واضح پیشگوئی فرمائی تھی عید کے دوسرے روز لیکھرام ایک نامعلوم شخص کے