سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 36
دیگر دعاوی اور آپ کے مشن کی عالمگیر حیثیت حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ علیہ السلام کا یہ دعوئی کہ آپ کو خود اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث فرمایا ہے آپ کو دیگر تمام علمائے اسلام اور پیروں فقیروں سے ایک بالکل الگ مقام عطا کرتا ہے۔آپ کا دعوئی یہ ہے کہ آپ کو خود اللہ تعالیٰ نے خدمت اسلام کا فریضہ ایک مامور کی حیثیت سے سونپا ہے اور آپ وہی وجود ہیں جن کے آنے کی پیشگوئی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے فرمائی تھی۔اس دعونی کا لازمی نتیجہ دیگر مذاہب پر بھی پڑا تھا کیونکہ جب آپ نے مسلمانوں کے موعود امام ہوتے کا دعوی کیا تو یہ دعوی اس اسلامی عقیدہ کے پس منظر میں تھا کہ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم وہ آخری صاحب شریعیت رسول ہیں جن کا دین اب قیامت تک منسوخ نہیں ہو سکتا۔اگر اس دعوئی کو درست تسلیم کیا جائے تو اس کا منطقی نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ اسلام کے سوا اب کسی اور مذہب میں خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی مصلح مبعوث نہیں ہو سکتا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت میں دیگر مذاہب کی کتب مقدسہ میں پائی جانے والی اُن پیشگوئیوں کی کیا حیثیت ہوگی جو اپنے مذہبی رہنماؤں کے بارہ میں یہ مژدہ سناتی ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں ایک دفعہ پھر نازل ہو کر یا تجتم اختیار کر کے دنیا کو اپنے اپنے مذہب پر اکٹھا کریں گے ؟ کیا اُن پیشگوئیوں کو اصلا بے بنیاد اور قابل رو تسلیم کیا جائے یا ان میں سے کسی ایک کو سچا اور باقی تمام کو جھوٹا سمجھا جائے ؟ ظاہر ہے کہ اگر ان کے باہمی تصادم کو دور کرنے کی معقول توجیہ پیش نہ کی جا سکے تو ان سب کو بیک وقت صحیح تسلیم کرنا عقلاً محال ہے۔حضرت مرزا صاحب نے ان پیشگوئیوں کی اصلیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس ظاہری تضاد کو کو دور کرنے کی ایک معقول توجیہ پیش فرمائی۔آپ کے نزدیک یہ مختلف پیش گوئیاں آنے والے موعود کے لئے جو وقت معین کرتی ہیں وہ ایک ہی ہے اور سب ایک ہی زمانہ کی علامتیں بیان کرتی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آخری زمانہ میں ہندووں کا کرشن دُنیا کو ہندومت کی طرف میلانے کے لئے