سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 35
۳۵ جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام موسوی شریعت کے تابع ہو کر آئے تھے اور خود اُن کے اعتراف کے مطابق وہ تورات کا ایک شعشہ بھی تبدیل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے، اسی طرح آنیوانے میسج بھی حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے کامل طور پر تابع ہونگے جس طرح حضرت مسیح ابن مریم نے یہودی فرقوں کے اختلافات میں حکم و عدل کا کردار ادا کیا اور خدا تعالیٰ کی عطا کردہ روشنی سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی احصل تعلیم کو بعد میں شامل ہونے والے انسانی خیالات سے پاک کر کے پیش کیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود اُمت محمدیہ میں بعد کے پیدا ہونے والے اختلافات میں حکم و عدل کا کردار ادا کریں گے۔جس طرح موسوی دور کے تیز غلبہ کے مقابل پر عیسی بن مریم کے متبعین کو آہستہ آہستہ رونما ہونے والا غلبہ عطا کیا گیا اسی طرح حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلد اور برق رفتار غلبہ کے مقابل پر آنے والے مصلح کو سیخ ناصری کی طرح آہستہ آہستہ ظاہر ہونے والا غلبہ عطا کیا جائے گا۔م جس طرح حضرت مسیح کو تلوار کا جہاد نہیں کرنا پڑا لیکن تبلیغی جہاد کے سلسلہ میں آپ کو اور آپ کے متبعین کو شدید مخالفت اور طرح طرح کی اذیتیں برداشت کرنی پڑیں اسی طرح مسیح موعود اور آپ کی جماعت کو بھی اسلام کی تبلیغ کے سلسلہ میں ایک لمبا اور قربانیوں سے بھر گویہ جہاد کرنا پڑے گا اور طرح طرح کے دکھوں اور مصائب کا سامنا کرنا ہو گا۔آنے والے موعود کو نسیح کا نام دینے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ آنے والے مسیح نے بگڑی ہوئی عیسائیت کے تصور کی پیداوار یعنی ما فوق البشر اور ابن الله (نعوذ بالله مسیح کی بجائے حقیقی مسیح کا وجود ان کے سامنے از سر نو پیش کرنا تھا اور اس کی امامت میں انہوں نے بالآخر فوج در فوج اسلام میں داخل ہونا تھا۔