سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 351 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 351

۳۵۱ تحت نبی کی تربیت یافتہ صالحین کی جماعت کرتی ہے اور انتخاب کے وقت معیار محض تقوی اللہ ہوتا ہے۔اس لئے انبیاء کے خلفا کو بھی خدا تعالیٰ ہی کا انتخاب شمار کیا جاتا ہے۔جماعت احمدیہ (مبائعین) کا اسی مذہب پر اجماع ہے۔پس جس وجود کو خلافت کی عظیم ذمہ داری محض اس لئے سونپی جاتی ہے کہ وہ اپنے وقت کے انسانوں میں اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ تقومی اپنے دل میں رکھتا ہے اس پر اس قسم کے لغو اعتراضات مضحکہ خیزی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔دین کی راہ میں مالی قربانی کے میدان میں یہ معتر نین حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی جوتیوں کی خاک کو بھی نہیں پہنچے تھے حضرت مسیح موعود علیه السلام آپ کے بارہ میں فرماتے ہیں :- سب سے پہلے میں اپنے ایک روحانی بھائی کے ذکر کرنے کے لئے دل میں جوش پاتا ہوں جن کا نام اُن کے نورِ اخلاص کی طرح نور دین ہے۔میں انکی بعض دینی خدمتوں کو جو اپنے مال حلال کے خرچ سے اعلائے کلمہ اسلام کے لئے وہ کہ رہے ہیں ہمیشہ حسرت کی نظر سے دیکھتا ہوں کہ کاش وہ خدمتیں مجھ سے بھی ادا ہو سکتیں۔اُن کے دل میں جو نامید دین کے لئے جوش بھرا ہوا ہے اس کے تصور سے قدرت الہی کا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے کہ وہ کیسے اپنے بندوں کو اپنی طرف مسیح لیتا ہے ! وہ اپنے تمام مال اور تمام زور اور تمام اسباب مقدرت کے ساتھ جو اُن کی میسر ہیں ہر وقت اللہ رسول کی اطاعت کے لیے مستعد کھڑے ہیں۔اور میں تجربہ سے نہ صرف حسن ظن سے یہ علم صحیح واقعی رکھتا ہوں کہ انہیں میری راہ میں مال کیا بلکہ جان اور عزت تک سے بھی دریغ نہیں اگر میں اجازت دیتا تو وہ سب کچھ اس راہ میں خدا کر کے اپنی روحانی رفاقت کی طرح جسمانی رفاقت اور مردم صحبت میں رہنے کا حق ادا کرتے۔اُن کے بعض خطوط کی چند سطرس بطور نمونہ ناظرین کو دکھلاتا ہوں تا انہیں معلوم ہو کہ میرے پیارے بھائی مولوی حکیم نور الدین بھیروی معالج ریاست جموں نے محبت اور اخلاص کے مراتب میں کہاں تک ترقی کی ہے۔اور وہ سطریں یہ ہیں :- مولنا مرشدنا امامنا - السلام عليكم ورحمة الله وبركاته عالیجناب ! میری دُعا یہ ہے کہ ہر وقت حضور کی جناب میں حاضر ہوں۔اور