سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 350
۳۵۰ پہنچے تا کہ اپنے محبوب کا آخری دیدار کر سکیں۔قادیان پہنچتے ہی ہمیں خبر ملی کہ بہشتی مقبرہ کے ملحقہ باغ میں جماعت کے نئے امام خلیفتہ امیج بیعت لے رہے ہیں۔چنانچہ ہم بھی دوڑتے ہوئے وہاں حاضر ہوتے لیکن ہمارے تعجب کی کوئی انتہا نہ رہی جب دیکھا کہ وہی جوتیوں میں بیٹھنے والا بوڑھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پہلے خلیفہ کی حیثیت سے بیعت لے رہا تھا۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ یہ بتاتے ہوئے اُن پر سخت رقت طاری ہوگئی اور روتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہم نے سوچا کہ اللہ کی شان ہے کہ مسیح موعود کی جوتیوں میں بیٹھنے والا یہ بوڑھا آج مسند خلافت پر رونق افروز ہے ڈ ستم ظریفی دیکھتے کہ اسی انتہائی منکسر المزاج بزرگ پر بعد ازاں تکبر اور نخوت کے الزام لگاتے گئے اور وہ لوگ جو خود اطاعت کے مفہوم ہی سے نابلد تھے اسی عاشق صادق اور اطاعت محبتم بزرگ پر یہ اعتراض بھی کرنے لگے کہ نعوذ باللہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشائے مبارک اور وصیت کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے جماعت کو غلط راستے پر ڈال رہے ہیں۔یہ ستم ظریفی تو ہے لیکن تعجب کی بات نہیں کیونکہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور ایسا ہی ہوتا رہے گا۔اور خدا کے برگزیدہ بندے اوئی ادنی انسانوں کے ہاتھوں دُکھ اُٹھاتے ہیں گے۔قومی اموال میں غلط تعرف کا الزام ایک اعتراض یہ اُٹھایا گیا کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کو نعوذ باللہ جماعتی اموال کا درد نہیں اور بھیرہ کے ایک ہم وطن شخص کی ناجائز رعایت کر کے اُسے جماعت کی جائداد اونے پونے دی جارہی ہے۔یہ اعتراض بھی پرانے منافقین کی روش کا اعادہ ہے۔خلفائے راشدین کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والے احباب پر خوب روشن ہوگا کہ کس طرح معترضین نے ایک کے بعد دوسرے خلیفہ پر مالی بے ضابطگیوں اور نا انصافیوں کے الزامات عاید کئے۔خلفا" تو پھر خلفا تھے دونوں جہان کے سردار حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ظالم اس بارہ میں زبان طعن دراز کرنے سے بانہ نہ آتے یعنی اس سردار دو عالم پر بھی قومی اموال کی ناجائز تقسیم کا الزام لگایا گیا جو اس دنیا میں بھی عدل کی بلند ترین کرسی پر فائز فرمایا گیا اور قیامت کے دن بھی خدا کے بعد عدل و انصاف کی کرسیوں میں اس کی کرسی سب سے اونچی ہوگی۔خدا کا نبی تو براہ راست خدا کا انتخاب ہوتا ہے لیکن نبی کے خلفا کا انتخاب چونکہ الہی تصرف کے