سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 349 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 349

۳۴۹ زندگی میں تو اس پر اعتراش کرتے یا اس کے فیصلوں کو بادل نخواستہ قبول کرتے ہیں اور کسی پہلو سے بھی اطاعت کرنے والوں کی صف اول میں اُن کا شمار نہیں کیا جاسکتا لیکن جب وہ امام گر جاتا ہے اور اس کے تابع فرمان مخلصین کی صف اول میں سے ایک نیا امام اس کا جانشین مقرر ہوتا ہے تو اس امام پر یہ الزام لگانے لگتے ہیں کہ وہ گذشتہ امام کے فیصلوں کا احترام نہیں کرتا۔تاریخ سے ثابت ہے کہ سید ولد آدم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک خلفاً کو بھی بارہا اسی قسم کے طعنوں کے چر کے دیئے گئے اور اُن کے فیصلوں کو یہ کہ کر چیلنج کیا گیا کہ نعوذ باللہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات یا تعامل کے خلاف ہے۔سادگی اور لاعلمی میں بھی یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے اور بعض اوقات نہایت اخلاص اور صاف نیت کے ساتھ اس خیال سے بھی ایسی بات کر دی جاتی ہے کہ ممکن ہے خلیفہ وقت کے ذہن میں متعلقہ ارشاد نبوی یا گذشتہ خلیفہ کا فیصلہ ستحضر نہ ہو۔اس طریق پر اگر بات کی جائے تو یہ تقویٰ کے خلاف نہیں لیکن یہاں جس قبیل کے معترضین کا ذکر ہے وہ مومنین کی جماعت میں حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے خلاف یہ مظنی پھیلانے کی کوشش کرتے تھے کہ نعوذ باللہ آپ عمدا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کو پس پشت ڈالتے ہوئے جماعت کو غلط راستے پر ڈال رہے ہیں۔حالانکہ حضرت خلیفہ المسح الاول رضی اللہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جو فدائیت اور عشق اور اطاعت شعاری کی نسبت تھی اس کا عشر عشیر بھی ان معترضین کو نصیب نہ تھا۔اس ضمن میں میاں محمدعبداللہ صاحب حجام کی ایک روایت بڑی بصیرت افروز ہے جو انہوں نے کچھ عرصہ قبل راقم الحروف سے بیان کی۔وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ قادیان میں حضرت میاں شریف احمد صاحب کی کوٹھی حجامت بنانے کی غرض سے گئے تو دوران انتظار صوبہ سرحد کے ایک معزز دوست غلام محمد خانصاحب بھی ملاقات کی غرض سے تشریف لے آتے لیکن کرسی کے اوپر بیٹھنے کی بجائے بڑے عاجزانہ رنگ میں زمین پر بیٹھ رہے۔جب حضرت میاں شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے تو تیزی سے بڑھ کر اُن کو اُٹھایا کہ اوپر تشریف رکھیں لیکن وہ زمین پر بیٹھنے پر مصر رہے۔بالآخر حضرت میاں صاحب نے کے اصرار کے بعد گزارش کی کہ دراصل میرے دل پر ایک واقعہ کا بڑا گہرا اثر ہے۔اس لئے میں اپنے لئے خاکساری کو ہی پسند کرتا ہوں۔اور وہ واقعہ بی شنایا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیه السلام م کی زندگی میں جب کبھی ہم قادیان آتے تو ہمیشہ ایک بوڑھے آدمی کو بڑی عاجزی اور انکساری کے ساتھ جوتیوں میں بیٹھے ہوئے دیکھتے۔جب حضور کا وصال ہوا تو ہم بھی جلد از جلد قادیان