سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 319 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 319

۳۱۹ کیا اور درخواست کی کہ یہ وقت سخت خطر ناک ہے۔اگر اسامہ کا لشکر بھی عیسائیوں کے مقابلہ کے لئے چلا گیا تو مدینہ میں صرف بچے اور بوڑھے رہ جائیں گے اور مسلمان عورتوں کی حفاظت نہیں ہو سکے گی۔اے ابوبکر! ہم آپ سے التجا کرتے ہیں کہ آپ اس لشکر کو روک لیں اور پہلے عرب کے باغیوں کا مقابلہ کریں۔جب ہم انہیں دبا لیں گے تو پھر اسامہ کے لشکر کو عیسائیوں کے مقابلہ کے لئے روانہ کیا جا سکتا ہے۔اور چونکہ اسب سلمان عورتوں کی عزت اور عصمت کا سوال بھی پیدا ہو گیا ہے۔اور خطرہ ہے کہ دشمن کہیں مدینہ میں گھس کر مسلمان عورتوں کی آبرو ریزی نہ کرے۔اس لئے آپ ہماری اس التجا کو قبول فرماتے ہوئے جیش اسامہ کو روک لیں اور اسے باہر نہ جانے دیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب وہ اپنی منکرانہ حالت کا اظہار کرنا چاہتے تو اپنے آپ کو اپنے باپ سے نسبت دے کر بات کیا کرتے تھے۔کیونکہ اُن کے باپ غریب آدمی تھے۔اور چونکہ اُن کے باپ کا نام ابو قحافہ تھا۔اس لیئے اس موقع پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ کیا ابو قحافہ کا بیٹا خلافت کے مقام پر فائز ہونے کے بعد پہلا کام یہ کرے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیه واله وسلّم نے جو آخری مہم تیار کی تھی اُسے روک دے؟ پھر آپ نے فرمایا۔خدا کی قسم ! اگر کفار مدینہ کو فتح کرلیں اور مدینہ کی گلیوں میں مسلمان عورتوں کی لاشیں گنتے گھسٹتے پھریں تب بھی اس تشکر کو نہیں روکوں گا جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کرنے کے لئے تیار کیا تھا۔یہ لشکر جائے گا اور ضرور جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیه السلام کی وفات کے بعد آپ لوگوں کا بھی یہ پہلا اجتماع ہے۔آپ لوگ غور کریں اور سوچیں کہ آئندہ تاریخ آپ کو کیا کہے گی۔تاریخ یہ سکے گی کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایسے خطرہ کی حالت میں جب کہ تمام عرب باغی ہو چکا تھا۔اور جبکہ مدینہ کی