سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 320 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 320

عورتوں کی حفاظت کے لئے بھی کوئی مناسب سامان اُن کے پاس نہ تھا، اتنا بھی پسند نہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک تیار کہتے ہوئے لشکر کو وہ روک لیں۔بلکہ آپ نے فرمایا کہ اگر مسلمان عورتوں کی لاشیں کتے گھسٹتے پھریں تب بھی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو منسوخ نہیں کروں گا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی وفات سے بر ۲ سال پہلے دسمبر شاہ کے جلسہ سالانہ پر تمام جماعت کے دوستوں سے مشورہ لینے کے بعد حین دینی مدرسہ کو قائم فرمایا تھا اور جس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ وہ مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی اور مولوی بُرہان الدین صاحب جہلمی کی یادگار ہوگا اور سلسلہ کی ضروریات کے لئے علما تیار کرنے کا کام اس کے سپرد ہو گا۔اسے مسیح موعود کی جماعت نے آپ کے وفات پانے کے معا بعد توڑ کر رکھ دیا۔کیونکہ جس طرح جیش اسامہ کی تیاری کا کام خود رسولِ کریم صلی الله علیه وسلم نے فرمایا تھا، اسی طرح مدرسہ دینیات کا اجرا خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی آخری عمر میں فرمایا تھا۔پس دنیا کیا کہے گی کہ ایک مامور کی وفات کے بعد تو اس کے متبعین نے اپنی عزتوں کا برباد ہونا پسند کر لیا مگر یہ برداشت نہ کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم باطل ہو۔مگر دوسرے مامور کے متبعین نے با وجود اس کے کہ ان کے سامنے کوئی حقیقی خطرہ نہ تھا اس کے ایک جاری کردہ کام کو اس کی وفات کے معا بعد بند کر دیا ہائے آپ کے اس پر جوش اور روح پر در خطاب نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جادو کا سا اثر کیا۔اور لوگوں کے قلوب کو بیک دفعہ پلٹ کر رکھ دیا اور طبیعتوں میں ایک عظیم انقلاب برپا ہوگیا لبعض حاضرین کی فرط رقت سے چیخیں نکل گئیں۔اور بکثرت پُر جوش آوازیں بلند ہوئے لیں کہ ہم حضرت صاحبزادہ ساب کی رائے سے مکمل اتفاق کرتے ہیں اور ہرگز یہ رائے نہیں دیتے کہ مدرستہ دینہ بند کر دیا جائے۔جناب سے ہیں اور یہ کہ بند دیا خواجہ کمال الدین صاحب نے جب مجلس کا یہ بدلا ہوا رنگ دیکھا تو کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ له تقریر جلسه سالانه ۲۰ دسمبر نشده ، تاریخ احمدیت جلد ۴ ص ۲۵