سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 271
کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔بعض ایسی چیزیں میرے سامنے آئیں کہ ان میں میں نے خود خُدا کو دیکھا بعض ایسے وجود میں نے دیکھے ہیں کہ وہ خود خدا کا ثبوت تھے اور خدا کی ہستی کو ثابت کر رہے تھے۔غرض کہ بے شمار فوائد تھے کہ اگر ایک ایک کو لکھنے بیٹھوں تو شاید دفتروں کے دفتر لکھنے پڑیں لیکن باوجود اس کے کہ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے سفر کا ایک مختصر حال لکھوں۔شاید کوئی سعید روح اس سے فائدہ اٹھاتے اور میں بھی ثواب کا اتفاق کی بات ہے کہ بعض دنوں میں تو کئی کئی مہینے تک باہر نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔اور بعض دنوں میں خدا کی قدرت ایسے سامان مہیا کرتی ہے کہ مجبوراً مختلف جگہوں میں یکے بعد دیگرے پھرنا پڑتا ہے۔لاہور میں بارہ وفات کا جلسہ تھا۔مگر می خواجہ کمال الدین صاحب نے مجھے اس موقع پر آنے کے لئے فرمایا اور حضرت خلیفہ المسیح سے بھی اجازت طلب کی۔اور آپ کی اجازت پر میرا ارادہ ہوا کہ دو یا تین اپریل کو کہاں سے روانہ لاہور ہوں گا۔اتنے میں والدہ ماجدہ کا ارادہ دہلی جانے کا ہوا اور دہلی سے میر قاسم علی صاحب نے خط لکھا کہ میں بھی وہاں جاؤں۔اور یہ بات اس کی محرک ہوئی کہ میں دو یا تین کو یہاں سے چلنے کی بجائے غالباً ۲۴ تاریخ کو یہاں سے روانہ ہوا۔چونکہ والدہ صاحبہ حضرت ام المومنین بند نے کپور تھلہ میں بھرنا تھا اس لئے میں بھی سیدھا کپور تھلہ ساتھ گیا اور وہاں سے پھر لاہور آنے کا ارادہ کیا۔چنانچہ اسی دن شام کو چار بجے کے قریب ہم کپور تھلہ پہنچے۔یہ وہ جگہ ہے کہ جہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا بھی کچھ مدت قیام رہا ہے خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ خاص خاص جگہوں میں خاص خاص خصوصیتیں ہوتی ہیں۔کپور تھلہ کی مٹی میں خدا تعالیٰ نے وہ اثر رکھا ہے کہ یہاں جس قدر لوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوتے ہیں کسی دلیل کسی معجزہ کسی نشان کی وجہ سے نہیں ہوئے اور نہ انہیں کسی کشف و کرامت کی ضرورت ہے کہ اُن کے ایمان کو قائم رکھے۔بڑے سے بڑا ابتلا ہو اور کیسا ہی سخت امتحان ہو۔ان لوگوں پر خدا کا کچھ ایسا افضل ہے کہ ان کا پائے ثبات ذرا بھی لغزش نہیں کھاتا اور اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی معجزانہ زندگی کو دیکھ کر آپ کی بیعت ہی نہیں کی بلکہ عشق پیدا کیا ہے اور یہاں تک ترقی کی ہے کہ لیلی را بچشم مجنوں باید دید کا معاملہ ہو گیا ہے۔ان لوگوں نے خدا کے