سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 251
۲۵۱۔۔مختلف سفروں کی رو نداد حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے چھ سالہ دور خلافت میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کو متعد د سفر پیش آئے جن کی ظاہری غرض خواہ کچھ بھی ہولیکن عملاً یہ تمام سفر ایک ہی مقصد کو پورا کر رہے تھے اور کوئی ایک بھی سفر ایسا نہ تھا جس میں بیشتر وقت خدمت دین میں صرف نہ ہوا ہو۔جلسوں میں شمولیت اور تقریروں کے علاوہ احباب جماعت کی تربیت اور غیر انہ جماعت دوستوں سے مذہبی امور پر تبادلہ خیالات میں اکثر وقت گزر جاتا۔ان سب مصروفیات سے جو وقت سیر و سیاحت کے لئے بچتا اور قدرتی مناظر کی سیر یا قابل دید تاریخی اور مقدس مقامات کی زیارت پر خرچ ہوتا، وہ بھی عملاً خدمت دین ہی کا ایک حصہ تھا کیونکہ جیسا کہ آپ کے سفروں کی رو تداد کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے یہ وقت بھی آپ اہم دینی اور قومی مسائل پر فکر و تدبر میں خرچ کرتے اور جیسے ایک عاشق کو مختلف حسین مواقع یا مناظر اپنے محبوب کی یاد دلاتے ہیں اسی طرح سیر و تفریح کے دوران مختلف اثر پذیر نظارے آپ کے جذبات اور افکار کے دھاروں کا رخ دینی اور قومی مسائل کی طرف پھیر دیتے تھے اور بسا اوقات آپ گہری سوچ کی جھیل میں غوطہ زن ہو کر بیش قیمت افکار و نظریات کے موتی چن لاتے۔پس جسمانی سیر کے ساتھ ساتھ ایک سیر روحانی بھی جاری رہتی رساله تشحید شاہ کے ایک پرچہ میں آپ کے مختلف سفروں کی ایک رو نداد شائع ہوئی تھی جس میں خلافت اُولیٰ کے صرف پہلے سال کے سفروں کا مختصر ذکر ہے۔ہم اس میں سے ایک اقتباس درج کرتے ہیں جس سے آپ کے سفروں کا وہ ظاہری پہلو قارئین کے سامنے آجائے گا جسے ایک صحافی کی آنکھ نے دیکھا۔اس کے بعد ہم خود حضرت صا حبزادہ صاحب کی زبانی آپ کے بعض سفروں کی رو نداد پیش کریں گے جسے دیکھ کر قارئین آپ کے سفروں کے باطنی پہلو کا بھی کسی حد تک نظارہ کر سکیں گے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی سیرت اور کردار کے مطالعہ کا یہ بھی ایک دلچسپ طریق ہے :۔۔۔۔آپ مختلف مقامات میں تبلیغ اسلام کے لئے لیکچر دیتے ہیں اور جہاں کہیں آپ کو باہر کسی شہر میں جانے کا اتفاق ہوتا ہے، فوراً لیکچر دیتے ہیں۔آپ کا سب سے پہلا سفر جو اس غرض کے لئے ہوا، بیگو وال کی طرف 19۔9