سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 241 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 241

آخر پر ہم حضرت مولوی شیر علی صاحب بی۔اے کے ایک اقتباس پر اس باب کو بند کرتے ہیں۔حضرت مولوی صاحب رضی اللہ عنہ جماعت احمدیہ کے بزرگان اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خدام میں ایک بلند مرتبہ رکھتے تھے۔آپ اپنی نیکی، تقومی بے نفسی اور سادگی میں ساری جماعت میں معروف دیشہور ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو صدر انجمن احمدیہ کا مبر بھی مقر فرمایا تھا۔آپ تعلیم الاسلام ہائی سکول میں ایک عرصہ تک مدرس کے فرائض انجام دیتے رہے اور حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کے استاد بھی رہے۔آپ نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی علمی کاوشوں کو جیسا پایا وہ مندرجہ ذیل الفاظ سے ظاہر ہے: ان پاک جذبات میں سے جنہوں نے ابتدا سے آپ کے اندر نشود نما پائی ایک جذبہ تبلیغ تھا اور ساتھ ہی اس کے یہ اُمنگ کہ نہ صرف خود اس کام میں حصہ لیں بلکہ دوسروں کو بھی اس خدمت کے لئے تیار کریں۔جس طرح ایک ملک کے خیر خواہ اور قوم کے بہی خواہ لیڈر میں یہ تڑپ ہوتی ہے کہ اپنی گری ہوئی قوم کو ترقی کے اعلیٰ مقام پر پہونچانے کے لئے اور اپنے دشمنوں سے گھرے ہوئے ملک کو حملہ آوروں کی دستبرد سے محفوظ رکھنے کے لئے اور اپنے ہاتھ سے نکلے ہوئے علاقہ کو دوبارہ فتح کرنے کے لئے اور دنیا میں اپنی قوم کی حکومت کو مستحکم اور مضبوط کرنے کے لئے ایک فوج تیار کرے۔اور اس فوج میں اپنی قوم کے نوجوانوں کو بھرتی ہونے کے لئے تحریک کرے اور بھرتی ہونے والوں کو قواعد جنگ کی تعلیم دے اور ان کو ضروری اسلحہ سے مسلح کرے۔یہی جذبہ لڑکپن کے زمانہ میں آپ کے سینہ میں موجزن تھا چنانچہ آپ نے اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہی حضور علیہ السلام سے اجازت حاصل کر کے ایک رسالہ جاری کیا۔جس کا نام حضور نے آپ کے ولی خیالات کی ترجمانی کرتے ہوئے اور اُن اغراض و مقاصد کو مد نظر رکھتے ہوئے جن کے ماتحت آپ نے اس رسالہ کے اجرا کا ارادہ فرمایا تھا، تشحید الاذہان رکھا۔یعنی ایسا رسالہ جس میں مضمون نویسی کی مشق کر کے سلسلہ کے نوجوان اپنی علمی طاقتوں اور اپنے ذہنوں کو تیز کریں گے اور آپ نے اس رسالہ