سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 236 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 236

۲۳۶ ہیں۔اس انجمن کے سر پرست حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو تھے ہی مگر حضرت خلیفہ المسیح ستمہ اللہ تعالیٰ اس کے مرتی اور محسن رہے۔انجمن کے جلسوں میں اپنے بہت سے ضروری کام چھوڑ کر بھی ہمیشہ خوشی سے حاضر ہوتے اور وقتا فوقتا اپنی تقریروں میں انجمن مذکور کے نوجوان ممبروں کی حوصلہ افزائی اور تعلیم سے کام لیتے رہتے اور آج میں دعوئی سے کہتا ہوں کہ تشحید الاذہان کی موجودہ کامیابی پر سب سے زیادہ خوش اور سب سے زیادہ مبارک باد کے قابل آپ ہی کا وجود ہے۔اس لئے کہ یہ انجمن جس کی ترقی اور کامیابی کے آپ دل سے خواہشمند تھے اور ہیں، آپ کے ہاتھوں میں قائم ہوئی، آپ کے زیر سایہ بڑھی، پھلی پھولی اور ترقی کر رہی ہے اور اس کے خوشگوار پھیل آج احمد کی قوم کے لئے مایہ ناز ہیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب کے قلم اور زبان کے بیش قیمت جواہرت انجمن تشخید کے لئے سلسلہ کی تاریخ میں وز یتیم سمجھے جاکر ہمیشہ قابل عزت سمجھے جائیں گئے۔۔۔اور اب نظر آتا ہے کہ وہ کام جو ابتداء شاید بچوں کا کھیل سمجھا جاتا ہو ایک ایسا کام ہے جس سے یقینا اللہ اور اس کا رسول خوش ہے اور جیس پر یقینا وقت آنے والا ہے کہ بڑے بڑے بوڑھوں کو رشک ہوگا - خدمتِ دین کے لئے بے غرض اور پُر جوش نوجوان تیار کردہ یا چھوٹی اور آسان بات نہیں ہے۔میں انجمن کے ممبروں کارکنوں اور الیمین کے بانی اور سرپرست کو اس کامیابی پر مبارکباد دیتا ہوں۔انجمن کا رسالہ تشحید حضرت صاحبزادہ صاحب کی ایڈ میٹری سے نکلتا ہے اور یہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ بالکل حق بات ہے کہ رسالہ مذکور کے ایڈیٹر کی زبان اور فلم میں بھی وہی شان جلوہ گر ہے جو ہم سب کے آتا اور 4 محبوب مسیح و مہدی کے زبان اور قلم میں تھی " اس رسالہ میں چھپنے والے بعض مضامین اتنے بلند پایہ تھے کہ بعض غیر از جماعت اخبارات نے بھی اُن کو سراہا اور اپنے صفحات کی زینت بنایا۔چنانچہ رسالہ تشحید الاذہان مارچ شاہ اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے :-