سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 219
۲۱۹ یہ آپ کی پہلی پبلک تقریر تھی جو آپ نے جماعت کے سامنے کی اور اس پہلی تقریر میں قرآن شریف کے وہ معارف بیان فرمائے ہیں جن کی نسبت حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہ جیسے عالم قرآن نے یہ اعتراف فرمایا کہ یہ ان کے لئے بھی جدید معارف ہیں۔پس یہ معارف اس نوجوان کو کس نے سکھائے ؟ یہ حکمت اور یہ علم آپ کو اس زمانہ جوانی میں کس نے دیا ؟۔اُسی نے جو قرآن شریف میں حضرت یوسف علیہ السلام کی نسبت فرماتا ہے : " فَلَمَّا بَلَغَ شده اتینه حكما وعلما ه وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ۔آپ نے صرف عام طور پر دانائی اور حکمت کی باتیں بیان نہ فرمائیں، بلکہ قرآن شریف کے اچھوتے معارف بیان فرماتے اور اللہ تعالیٰ قرآن شریف کے متعلق فرماتا ہے : لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔پس لڑکین کی خلوت سے نکلتے ہی آپ کا لوگوں کے سامنے قرآن شریف کے جدید اور لطیف معارف بیان فرمانا اس بات کی ایک بین شہادت ہے کہ آپ نے اپنا ٹرکین اللہ تعالیٰ کی خاص تربیت میں گزارا اور آپ کمپین میں ہی مطہرین کی جماعت میں داخل تھے یا لے اس مختصر مگر موثر اور حقائق و معارف سے لبریز تقریر کے متعلق ایڈیٹر الحکم نے لکھا: "آج صبح کی کاروائی تشحید الاذہان کے جلسہ سے شروع ہوئی۔حضرت صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد سلمہ اللہ الاحد کی نظم اور آپ کی تقریر نے مردہ دلوں کو جلا دیا۔بلا مبالغہ صاحبزادہ صاحب کی تقریر میں قرآن مجید کے حقائق و معارف کا سادہ اور مسلسل الفاظ میں ایک خزانہ تھا۔پلیٹ فارم سے اس لب ولہجہ میں بول رہے تھے جو حضرت امام علیہ السلام کا تھا۔اور الوَلَدُ سِر لابی کا پورا نمونہ تھا۔صاحبزادہ صاحب کی تقریر کے متعلق مجھے الفاظ نہیں ملتے کہ میں اس کا ذکر کر سکوں۔الفضل در نومبر له حت