سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 210 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 210

٢١٠ جیسا کہ میں نے بیان کیا ھے این جواب دینے سے مجبور ہوں اور موجودہ صورت میں اور کیا کہ سکتا ہوں سوائے اس کے کہ یہ کون کہ خدا تعالی شاہد ھے اور میں اس کو حاضر ناظر جان کر اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے کبھی اس امر کی کوشش نہیں کی کہ میں خلیفہ ہو جاؤں۔نہ یہ کہ کوشش نہیں کی بلکہ کوشش کرنے کا خیال بھی میرے دل میں نہیں آیا اور نہ میں نے کبھی یہ امید ظاہر کی اور نہ میرے دل نے کبھی خواہش کی اور جن لوگوں نے میری نسبت یہ خیان پھیلایا ھے انہوں نے میرا خون کیا ھے۔وہ میرے قاتل اور خدا کے حضور و إن الزامات کے جوابت ہوں گے۔جب حضرت صاحب فوت ہوتے ہیں اس وقت میری عمر انہیں سان کی تھی اور ہندوستان میں انیس سال کی عمر میں ابھی کھیلنے کو اپنے کے بھی دن سمجھے جاتے ہیں۔پس میری عمر بچپن کی حالت سے زیادہ نہیں ہوئی تھی۔جب سے میں نے یہ چھوٹے بولا جاتے ہوئے سنا۔میرے اس دوست نے جن نے مجھے خط لکھا ہے آج یہ اعتراض کیا ھے۔مگر یہ اعتراض بہت پرانا ہے اور اس وقت سے میں اس کو سنتا آرہا ہوں جبکہ میں ابھی اس کی اہمیت کو بھی نہیں سمجھ سکتا تھا۔میں وقت خلافت کا جھگڑا ہوا ھے اس وقت میرے کانوں میں یہ آوازین پڑی تھیں کہ بعض نوجوان خلیفہ بننے کی خواہش میں یہ شورش بپا کر رہے ہیں۔میرے کان اس بات کو سُنتے تھے مگر میرا دما غیر ان کے معنوں کو نہیں سمجھ سکتا تھا۔کیونکہ میرا دن پاک تھا۔اور بالکل بے لوث تھا اور اس پر ہوا و ہوس کے غبار نے کوئی اثر نہ کیا تھا۔میں نے معلوم کیا۔که این انگلیوں کا اشان میری طرف ہے اور ان اقوال کا مخاطب میں ہوں۔میری اُس وقت کیا عمر تھی اور ایسے وقت میں میرے دل پر کیا صدات گزر سکتے تھے اُسے خدا ہی جانتا ھے۔میرا کوئی دوست