سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 207 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 207

۲۰۷ تم چھیڑتے ہو یہ تو خدا سے شکوہ کرنا چاہیے کہ بھیرہ کا رہنے والا خلیفہ ہو گیا۔کوئی کہتا ہے کہ خلیفہ کرتا ہی کیا ہے ؟ لڑکوں کو پڑھاتا رہتا ہے کوئی کہتا ہے کہ کتابوں کا عشق ہے اسی میں مبتلا رہتا ہے۔ہزار نالا تھیاں مجھ پر تھو پو۔مجھ پر نہیں یہ خدا پر لگیں گی جس نے مجھے خلیفہ بنایا۔یہ لوگ ایسے ہیں جیسے رافضی ہیں جو ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر اعتراض کرتے ہیں۔۔۔میں باوجود د اس بیماری کے جو مجھے کھڑا ہونا تکلیف دیتا ہے اس رقعہ کو دیکھ کر سمجھاتا ہوں کہ خلافت کیسری کی دکان کا سوڈا واٹر نہیں۔تم اس بکھیڑے سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔نہ تم کو کسی نے خلیفہ بنانا ہے اور نہ میری زندگی میں کوئی اور بن سکتا ہے۔میں جب مر جاؤں گا تو پھر وہی کھڑا ہو گا جس کو خدا چاہے گا اور خدا اس کو آپ کھڑا کر دے گا۔تم نے میرے ہاتھوں پر اقرار کئے ہیں۔تم خلافت کا نام نہ لو۔مجھے خدا نے خلیفہ بنا دیا ہے اور اب نہ تمہارے کہنے سے معزول ہو سکتا ہوں اور نہ کسی میں طاقت ہے کہ وہ معزول کرے۔اگر تم زیادہ زور دوگے تو یاد رکھو میرے پاس ایسے خالد بن ولید ہیں جو تمہیں مرندیس کی طرح سزا دیں گے۔دیکھو ! میری دعائیں عرش میں بھی سنی جاتی ہیں۔میرا مولیٰ میرے کام میری دُعا سے بھی پہلے کر دیتا ہے۔میرے ساتھ لڑائی کرنا خدا سے لڑائی کرنا ہے۔تم ایسی باتوں کو چھوڑ دو۔توبہ کر لو۔۔تھوڑے دن صبر کرو پھر جو پیچھے آئے گا اللہ تعالیٰ جیسا چاہے گا وہ تم سے معاملہ کرے گا یہ اتنے معلوم ہوتا ہے حضرت خلیفہ المسیح کے اس واضح اور پریقین اعلان کے باوجود کہ صاحبزادہ مرزا محمود احمد سے بڑھ کر جماعت میں کوئی اور آپ کا مطیع نہیں ، یہ فتنہ پرواز بے ہودہ سرائی سے باز نہیں آئے اور یہ شر انگیز افواہیں پھیلانے پر مصر رہے کہ دراصل حضرت صاحبزادہ صاحب خود خلیفہ بننے کے نے بدر قادیان ۲۸ / بعون ۱۹۱۷ ه من تا ۲۲