سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 178 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 178

" حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام کے آخری لمحے تھے اور آپ کے ارد گرد مرد ہی مرد تھے مستورات وہاں سے بہٹ گئی تھیں۔چار پانی کے تینوں طرف مرد کھڑے تھے۔میں وہاں جگہ بنا کر آپ کے سرہانے کی طرف چلا گیا یا شاید وہاں نسبتاً کم آدمی ہوں۔میں وہاں کھڑا ہوا اور میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی آنکھ کھولتے ادھر ادھر پھیرتے اور پھر بند کر لیتے۔پھر کھولتے اُن کی پتلیاں اِدھر اُدھر مڑتیں اور پھر تھک کر آپ اپنی آنکھوں کو بند کر لیتے کئی دفعہ آپ نے اسی طرح کیا۔آخر آپ نے زور لگا کر کیونکہ آخری وقت طاقت نہیں رہتی اپنی آنکھ کو کھولا اور نگاہ کو چکر دیتے ہوئے سرہانے کی طرف دیکھا نظر گھومتے گھومتے جب آپ کی نظر میرے چہرے پر پڑی تو مجھے اس وقت ایسا محسوس ہوا جیسے آپ میری ہی تلاش میں تھے اور مجھے دیکھ کر آپ کو اطمینان ہو گیا۔اس کے بعد آپ نے آنکھیں بند کر لیں۔آخری سانس لیا اور وفات پاگئے۔اس وقت میں نے سمجھا کہ آپ کی نظر مجھ کو ہی تلاش کر رہی تھی اور میں نے اپنے ذہن میں سمجھا کہ میں جو دعائیں کر رہا تھا اس کا یہ نتیجہ ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرما دی کہ میں آخری وقت میں آپ کی آنکھوں کو دیکھ سکوں۔آپ کی وفات کے معا بعد کچھ لوگ گھبرائے کہ اب کیا ہو گا۔انسان انسانوں پر نگاہ کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ دیکھو یہ کام کرنے والا موجود تھا یہ تو اب فوت ہو گیا، اب سلسلہ کا کیا بنے گا ؟ جب۔۔۔اس طرح بعض اور لوگ مجھے پریشان حال دکھائی دیتے اور میں نے اُن کو یہ کہتے سنا کہ اب جماعت کا کیا حال ہو گا تو مجھے یاد ہے گو میں اس وقت انمیں سے سال کا تھا مگر میں نے اُسی جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سرہانے کھڑے ہو کر کہا کہ اے خدا ! میں تجھ کو حاضر ناظر جان کر تجھ سے بیچے دل سے یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر ساری جماعت احمدیت سے پھر جائے تب بھی وہ پیغام جو