سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 8 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 8

جانے والے جوابی اعتراضات یا مسلمان مفسرین کی تفاسیر کی آڑ لے کر قرآن اور سنت پر کئے جانے والے تازہ حملوں کے جوابات تو کجا ان اعتراضات ہی سے اکثر مسلمان علماءہ بے بہرہ تھے۔یہ تو بیشتر ان علماء کا حال تھا جو اسلام کا درد رکھتے تھے اور خلوص نیت سے یہ چاہتے تھے کہ اسلام کی طرف سے علمی اور بسانی جہاد میں بھر پور حصہ لیا جائے۔وہ بے نیاز طبقہ علمامہ اس کے علاوہ تھا اور اکثریت میں تھا جسے اس جنگ سے کوئی بھی سروکار نہ تھا۔ہاں وہ اندرونی فرقہ وارانہ جھگڑوں ہی کو باعث نجات سمجھ بیٹھے تھے اور قصہ وہابی غیر وہابی کا اور جھگڑا شیعہ سنی کا اُن کی تمام تر توقعات اور جوش و خروش اور ہیجانات کا محور بنا ہوا تھا۔کہیں تو نظریاتی جنگیں تھیں اور کہیں نور و بشر کے طوفان خیز جھنگڑے تھے۔ان کے نزدیک اسلام ہی کی چار دیواری میں اندرونی لہروں کے باہم دگر گر امرا کر جھاگ جھاگ ہوتے رہنے کا نام جہاد تھا۔گریبانوں میں اُنجھے ہوئے اس گروہ کے علاوہ ایک وہ انبوہ بھی علماء کہلانے والوں کا تھا جو نکاح اور فاتحہ خانیوں کی شیرینیوں اور یوسف زلیخا اور ملکہ سبا کے قصوں نیز جنات کی تسخیر کے دعووں سے دیہات کے ماحول کو رنگینیاں عطا کر رہا تھا۔اسلام اور قرآن پر کیا بہت رہی تھی اور ہمارے آقا و مولا حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسے کیسے ظالمانہ اور سفاکانہ حمل ہو رہے تھے ؟۔ان باتوں کی تو اُن کے جنات کو بھی خبر نہ تھی جن کی فرضی تسخیر میں وہ ہمہ تن مصروف تھے۔H مذکورہ بالا حالات کے ردعمل کے طور پر کسی قسم کے خیالات اور تحریکات کی کوئی مسلمانوں کے۔درمیان چلنے لیں۔شدت اور وسعت میں سب سے بڑا رد عمل جس نے علماء اور عوام کی بھاری اکثریت کو اپنی پیسیٹ میں لے لیا، ان پیش گوئیوں میں پناہ ڈھونڈنے کی صورت میں ظاہر ہوا جن میں حضرت بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسلمانوں پر آنے والے ادبار کی خبروں کے ساتھ ساتھ ایک ایسے نخجلت دہندہ کی بعثت کی خبر بھی دی گئی تھی جو اس آڑے وقت میں مسلمانوں کے تنزل کو ترقی اور ان کی شکست کو عظیم الشان عالمگیر غلبہ میں تبدیل کر دے گا۔اصل پیش گوئیاں کیا تھیں اور ان کا حقیقی مفہوم کیا تھا ؟ یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔اس وقت ہم مختصراً ان پیش گوئیوں کے اس مفہوم کا ذکر کرتے ہیں جو مسلمان علماء کی طرف سے بکثرت مسلمان عوام میں پھیلا دیا گیا تھا۔یہ تضور حضرت بانی اسلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ان پیش گوئیوں سے ماخوذ تھا جن میں ایک طرف تو ایک خوفناک آفت کے خروج کی خبر دی گئی جس کا نام دنبال بتایا گیا تھا اور۔۔۔۔۔۔