سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 7
مسلمانوں کی حالت غیر منظم اور منتشر ہونے کے باوجود مسلمان عوام میں اپنے مذہب کے ساتھ بے پناہ وابستگی اور عقیدت پائی جاتی تھی۔لہذا اگر چہ اسلام کی طرف سے جارحیت کا الا ماشاء اللہ فقدان تھا، لیکن عامہ المسلمین اور بعض خدارسیدہ علماء کے سینوں میں اپنی کس مپرسی کا احساس بڑی تیزی سے پیدا ہو کر ہیجانی کیفیت اختیار کر رہا تھا۔جہاں تک مسلمان عمار کا تعلق ہے وہ اگر چہ اپنی بساط کے مطابق اسلام کے دفاع میں کوشاں تھے لیکن عیسائیت ، ہندومت اور تہذیب نو کی سہ طرفہ یلغار کا کما حقہ مقابلہ کرنا دراصل ان کے بس کی بات نہیں تھی۔ان کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ اسلامی مدارس کا نظام تعلیم اپنے زمانہ سے صدیوں پیچھے رہ چکا تھا اور نئے علوم اور سائنسی انکشافات کی ہو ایک بھی ان مدارس کو نہیں پہنچی تھی ( آج بھی اکثر صورتوں میں یہی درست ہے دنیا و مافیہا کا ایک ایسا فلسفہ ان کو پڑھایا جارہا تھا جو کئی صدیاں نہیں، کئی ہزار برس پرانا تھا اور حقائق سے اس کا دُور کا بھی تعلق نہ تھا۔جہاں تک مذہبی تعلیم کا تعلق ہے، یہ مدارس اسلام کے سوا کسی مذہب کی تعلیم سے کوئی سروکار نہ رکھتے تھے جس کے نتیجہ میں ایسے علماء تیار ہوتے تھے جن کو شنیدہ علم کے سوا غیر مذاہب کی تعلیمات اور کتب مقدسہ سے کوئی ٹھوس واقعیت نہیں تھی۔ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں جارحانہ جنگ تو الگ رہی ، مدافعانہ جنگ کے لئے بھی ضروری ہتھیار مہیا نہ تھے اور غیر مذاہب کی کتب سے ناواقفیت بار بار اور بری طرح جوابی کاروائی کی راہ میں حائل ہوئی تھی۔اس پر مزید وبال یہ تھا کہ عموماً علماء میں اپنے شاندار ماضی میں بسنے کا رجحان اس حد تک پایا جاتا تھا کہ عملاً ان کے نزدیک منتقدین اور بزرگان سلف کے بعد کسی نتی علمی کاوش کی گویا ضرورت ہی باقی نہیں تھی۔ضرورت تو الگ رہی، ایک طبقہ علماً کے نزدیک تو متقدمین کے بعد برنتی علمی کارش گویا دین کو بگاڑنے کے مترادف سمجھی جاتی تھی۔اسلام پر عائد کئے جانے والے صرف انہی اعتراضات سے انہیں واقفیت تھی جن کا ذکر متقدین کی کتب میں ملتا تھا اور جوابات بھی بس اسی قدر یاد تھے جو متقدمین کی کتب میں درج تھے۔بعد میں اُٹھاتے