سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 124
سهم ۱۲ لکھا ہوا ہے۔جماعت تو اس مضمون کو پڑھے گی مگر میں اس مضمون کو مخالفینِ سلسلہ کے سامنے بطور ایک بین دلیل کے پیش کرتا ہوں جو اس سلسلہ کی صداقت پر گواہ ہے۔اس وقت صاحبزادہ صاحب کی عمر اٹھارہ انیس سال کی ہے اور تمام دنیا جانتی ہے کہ اس عمر میں بچوں کا شوق اور امنگیں کی ہوتی ہیں۔زیادہ سے زیادہ اگر وہ کالجوں میں پڑھتے ہیں تو اعلیٰ تعلیم کا شوق اور آزادی خیال اُن کے دلوں میں ہوگا۔مگر دین کی ہمدردی اور اسلام کی حمایت کا یہ جوش جو اوپر کے بے تکلف الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے ایک خارق عادت بات ہے۔صرف اسی موقع پر نہیں بلکہ میں نے دیکھا ہے کہ ہر موقع پر یہ دلی خوش اُن کا ظاہر ہو جاتا ہے۔جھوٹ تو ایک گند ہے۔پس اس کا اثر تو یہ چاہیئے تھا کہ گندہ ہوتا نہ یہ کہ ایسا پاک اور گورانی جس کی نظیر نہیں ملتی۔۔غور کرو اگر جس کی تعلیم اور تربیت کا یہ پھل ہے وہ کا ذب ہو سکتا ہے؟ اگر وہ کا ذب ہے تو پھر دنیا میں صادق کا کیا نشان ہے ، لہ صرف جماعت احمدیہ کے افراد نے ہی اس رسالے کی عظمت کو تسلیم نہیں کیا بلکہ غیروں نے بھی اس پر تحسین کی نظر ڈالی۔یہاں تک کہ قادیان سے سینکڑوں میل دور وسط ہند کے مشہور شہر مُراد آباد تک بھی اس کے چرچے ہونے لگے۔چنانچہ وہاں کے ایک مشہور اخبار " نیز اعظم نے لکھا: بلا مبالغہ اسلامی رسالوں میں ریولو آف ریجیز کے بعد اس کا شمار کرنا چاہیئے مذہب اسلام کو اس کے اجرا سے بہت مدد ملے گی یہ تھے اس زمانہ میں آپ کی دینی سرگرمیاں غیر معمولی تیزی سے بڑھ رہی تھیں۔ذہنی اور روحانی نشو نما کا یہ دور تھا جسے دیکھ کر بے اختیار مصلح موعود کی پیشگوئی کے ان الفاظ کی طرف ذہن منتقل ہو جاتا ہے کہ وہ جلد جلد بڑھے گا "۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس دور میں آپ کے دینی جوش کو محسوس فرما کر اس کا اظہار ان لفظوں میں فرمایا :- میاں محمود میں اس قدر دینی جوش پایا جاتا ہے کہ میں بعض اوقات ان کے لئے خاص طور پر دُعا کرتا ہوں، ہے سه ریویو اُردو مارچ شاه سے تاریخ احمدیت جلد سوم صدام له الحكم جوبلی نمبر ۹۳ "