سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 123
نے مل کر جاری کیا۔آپ فرماتے ہیں : وو ہم سات طالب علم تھے جنہوں نے مل کر رسالہ تشحید الا زبان جاری کیا کسی سے کوئی مدد ہم نے نہیں لی۔ایک پیسہ بھی چندہ کسی سے نہیں مانگا ، اپنے پاس سے ہی سب رقوم دیں۔ہاں بعد میں اگر بعض دوستوں نے اپنے طور پر کوئی مدد دی تو وہ لے لی اور نہ سب بوجھ خود اٹھا یا کسی سے مضمون بھی نہیں مانگا خود ہی رسالہ کو ایڈٹ کرتے، خود ہی چھاپتے اور خود ہی بھیجتے تھے۔سب کام خود ہی کرتے تھے لے اس رسالہ میں نہایت اعلیٰ پایہ کے مضامین شائع ہوتے رہے اور جہاں ایک طرف وہ نوجوان جیو جو ہر قابل رکھتے تھے اہل علم و ادب سے متعارف ہوئے وہاں بعض نوجوانوں کو تحریر کی مشق کا بہت اچھا موقع میسر آیا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اس کے صرف پانی ہی نہیں تھے بلکہ ہمیشہ اس کی روح رواں بھی بنے رہے اور آپ ہی کے مضامین دراصل اس رسالہ کی جان تھے۔چنانچہ وہ پہلی تمہید جو اس رسالے کو شائع کرنے کی وجوہات پر بحث کرتے ہوئے رقم فرمائی وہ چودہ ہے صفحات پر مشتمل تھی اور ایک ایسی اعلیٰ پایہ کی کاوش تھی کہ حضرت مولانا حکیم نور الدین رضی الله عنه نے بھی کھلے لفظوں میں اس کی داد دی۔گویادہ اعلیٰ مطمح نظر آپ کو پورا ہوتا دکھائی دیا جس کو پیش نظر رکھ کر آپ نے اس نوجوان کو تقریر و تحریر کی تربیت دی تھی۔حضرت حکیم نور الدین یہ کی تعریف تو پھر ایک استاد کی تعریف تھی ایک مشفق و مهربان بلکہ غیر معمولی محبت کرنے والے بزرگ کی تعریف تھی معجب تو اس بات پر آتا ہے کہ خواجہ کمال الدین صاحب وکیل اور مولوی محمد علی صاحب ایم۔اسے بھی اس موقع پر آپ کی تعریف میں رطب اللسان ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔یہ دونوں بزرگ وہ ہیں جنہیں اپنی دنیوی علوم کی برتری کا اس زمانہ میں بھی بڑی شدت سے احساس تھا اور بعد میں تو یہ احساس بڑھتے بڑھتے اس درجے تک پہنچ گیا کہ حضرت مرزا محمود احمد رضی اللہ عنہ کی نہر دلعزیزی اور آپ کے علم و فضل کی برتری کے چرچے ان کو خوشی کی بجائے دُکھ پہنچانے لگے۔یہی مولانا محمد علی صاحب ہیں جو اس تمہید کو پڑھ کر بے اختیار یہ لکھنے پر مجبور ہو گئے : اس رسالہ کے ایڈیٹر مرزا بشیر الدین محمود احمد حضرت اقدس کے صاحبزادہ ہیں۔پہلے نمبر میں چودہ صفحوں کا ایک انٹروڈکشن ان کی قلم سے له الفضل ۳۰ جولائی ۱۹۴۷