سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 122
نہیں رہی لیکن اس وقت میں جہاں کھڑا ہوں میں اس کے سامنے کے دروازے میں کھڑے ہو کر میں نے تقریر کی تھی۔اگر چہ اب علم میں بہت ترقی ہو گئی ہے۔حالات اور افکار میں بہت تغیر ہو گیا ہے لیکن اب بھی میں اس تقریر کو پڑھ کر حیران ہو جاتا ہوں کہ وہ باتیں کس طرح میرے منہ سے نکلیں اور اگر اب میں وہ باتیں بیان کروں تو یہی سمجھوں گا کہ خدا تعالیٰ نے خاص فضل سے سمجھائی ہیں۔اس وقت مجھ پر ایسی حالت تھی کہ چھوٹی عمر اور مجمع عام میں پہلی دفعہ بولنے کی وجہ سے میرے اعصاب پر ایسا اثر پڑا ہوا تھا کہ مجھے لوگوں کے چہرے نظر نہ آتے تھے، اندھیرا سا معلوم ہوتا تھا۔اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔بعد میں اخبار میں میں نے کہیں تقریر پڑھی تو معلوم ہوا کہ میں نے کیا کہا تھا۔یہ رکوع میرے لئے تبلیغ اسلام کرنے میں بیج کا کام دے گیا اور میں نے اس سے بڑا فائدہ اٹھایا نہ ملے اس موقع پر سامعین کی جو کیفیت تھی اس کا کچھ اندازہ حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام کے جلیل القدر صحابی اور قادر الکلام شاعر حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ سے ہو سکتا ہے :- برج نبوت کا روشن ستارہ اوج رسالت کا درخشندہ گوہر محمود سلمہ اللہ الود و د شرک پر تقریر کرنے کیلئے کھڑا ہوا میں ان کی تقریر خاص توجہ سے سنتا رہا۔کیا بتاؤں، نصاحت کا ایک سیلاب تھا جو پورے زور سے بہہ رہا تھا۔واقعی اتنی چھوٹی سی عمر میں خیالات کی پختگی اعجاز سے کم نہیں! میرے خیال میں یہ بھی حضور علیہ السلام کی صداقت کا ایک نشان ہے اور اسی سے ظاہر ہو سکتا ہے کہ مسیحیت مآب کی تربیت کا جو ہر کس درجہ کمال پر پہنچا ہوا ہے۔آپ نے روحانی کمالات پر عجیب طرز سے بحث کی ہے جہاں تک آپ کی مضمون نویسی کی مشق کا تعلق ہے اس کا پہلا ٹھوس اظہار نوجوانوں کے ایک دینی، علمی اور ادبی رسالہ تشحید الا زبان کی صورت میں منظر عام پر آیا جسے آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے الحکم جوئی نمبر دسمبر شاه۔١٩٣٩ ن الحکم ۱۰ جنوری شده و جوبلی نمبر ۱۹۳۹ء