سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 110
میں ایک معروف مقام رکھتے تھے۔آپ کا حضرت صاحبزادہ صاحب کو پڑھاتے وقت یہ خاص سلوک تھا کہ جہاں دوسروں کے سوالات کا جواب تفصیل سے دیا کرتے وہاں حضرت صاحبزادہ صاحب کو سوال کرنے سے ٹوکتے۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ آپ کے نزدیک یہ طالب علم غیر معمولی ذہانت کا مالک تھا اور اگر خود مسائل پر غور کرتا تو درست نتائج تک پہنچ سکتا تھا۔دوسری وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ قرآن کے علم کو کوشش کی بجائے اللہ تعالیٰ کے فضل پر زیادہ معنی سمجھتے تھے اور یقین رکھتے تھے کہ یہ بچہ اللہ تعالیٰ کے خاص سلوک کے نتیجہ میں اور اس کی رہنمائی میں قرآن کریم کا علم سیکھے گا۔ابتداء میں تو حضرت صاحبزادہ صاحب کے دل میں یہ احساس رہا کہ حضرت خلیفہ البیع الاول دو سر طلباء کی نسبت آپ پر زیادہ سختی فرماتے ہیں۔لیکن رفتہ رفتہ یہ حقیقت کھل گئی کہ اس استثنائی سلوک کا مقصد کیا تھا۔چنانچہ اس بارہ میں آپ خود ہی اس قسم کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- ایک شاندار نکتہ میں نے اپنی ذات میں بھی دیکھا ہے میں جب حضرت۔۔خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ سے قرآن شریف اور بنجاری پڑھا کرتا تھا تو آپ نے آدھ آدھ سیارہ روز پڑھا کر دو ماہ میں سب جسم کرا دیا۔میں جب کچھ پوچھنا چاہتا تو فرماتے۔میاں ! گھر جا کر سوچ لینا۔دوسرے ھنے والوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے اگر میں کوئی سوال کرتا تو فرماتے۔میاں! انٹھو ادھر آکر بیٹھو۔غرض اس طرح پڑھانے کے بعد فرمایا جو علم نور دین کو آتا تھا ، پڑھا دیا۔اس کے اندر ایک نکتہ تھا اور وہ یہ کہ ایک مسلمان کے لئے صرف اتنا ضروری ہے کہ وہ ترجمہ پڑھ لے اور اس کو اچھی طرح سمجھ لے۔باقی جو علوم میں وہ تو خدا کے سکھانے سے آتے ہیں۔اُن کے متعلق اسے اپنے طور پر کوشش کرنی چاہیئے اور خدا تعالیٰ سے حاصل کرنے چاہئیں میں اگر حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی بتائی ہوئی باتوں کو لکھ رکھتا تو آج ان اعتراضوں کے جواب کہاں سے لاتا جو اسلام پر ہورہے ہیں۔کیا انہوں نے ہمیشہ زندہ رہنا تھا نہیں ! اس لئے انہوں نے وہ گر مجھے بتا دیا جو اُن