سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 96
۹۶ وہ کسی چیز کے پیدا کرنے کے لئے روح اور مادہ دونوں کا محتاج ہے۔میری یہ عادت تھی کہ ایسے مسائل کو لے کر جو عقل کے مخالف ہوتے ہیں غور کیا کرتا تھا۔مجھے خوب یاد ہے کہ میں ایک دفعہ رات کے وقت دیوار سے ٹیک لگائے ستاروں پر غور کر رہا تھا۔میں نے یہ خیال کرنا شروع کیا کہ ان ستاروں کے اوپر بھی کوئی چیز ہے تو میں نے خیال کیا کہ اگر کوئی چیز نہیں تو خلاصہ ناممکن ہے اور اگر کہو کہ کچھ اور بھی ہے تو پھر اس کے بعد کچھ اور بھی ہوگا۔غرضیکہ اسی طرح سوچتے سوچتے میں نے دیکھا کہ انسان تو اس نظری مسئلہ کو بھی حل نہیں کر سکتا اور اس سوال کے دو ہی جواب ہیں، اور دونوں ہی ناممکن میں لے ایک اور موقعہ پر آپ فرماتے ہیں :- میں علمی طور پر بتلاتا ہوں کہ میں نے حضرت صاحب کو والد ہونے کی وجہ سے نہیں مانا تھا بلکہ جب میں گیارہ سال کے قریب کا تھا تو میں نے صتم ارادہ کیا تھا کہ اگر میری تحقیقات میں وہ نعوذ باللہ جھوٹے نکلے تو میں گھر سے نکل جاؤں گا۔مگر میں نے ان کی صداقت کو سمجھا اور میرا ایمان بڑھتا گیا حتی کہ جب آپ فوت ہوئے تو میرا یقین اور بھی بڑھ گیا ہے اس سلسلہ میں یہ تیسرا واقعہ بھی آپ کے ذہنی انقلاب کی نشاندہی کرتا ہے۔آپ فرماتے ہیں: منشہ میرے قلب کو اسلامی احکام کی طرف توجہ دلانے کا موجب ہوا اس وقت میں گیارہ سال کا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے کوئی شخص چھینٹ کی قسم کے کپڑے کا ایک مجبہ لایا تھا۔میں نے آپ سے وہ جبہ لے لیا تھا کسی اور خیال سے نہیں بلکہ اس لئے کہ اس کا رنگ اور اس کے نقش مجھے پسند تھے میں اسے پہن نہیں سکتا تھا۔کیونکہ اس کے دامن میرے پاؤں سے نیچے لٹکتے رہتے تھے۔19۔جب میں گیارہ سال کا ہوا اور نالہ نے دنیا میں قدم رکھا تو میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں خدا تعالیٰ پر کیوں ایمان لاتا ہوں، اس کے الفضل ۲۳ اگست ۱۹ در ۵ له الفضل ارجون ١٩٣٣ ص