سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 91 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 91

91 کی کو کو تم کہتی پلکھنو وغیرہ میں آپ کے لفظ سے مخاطب کرتے ہیں۔گھر میں ہمیشہ تم تم کا لفظ سنتے رہنے سے میری عادت بھی تم کہنے کی ہوگئی تھی۔یوں تو میری عادت تھی کہ میں حتی الوسع حضرت مسیح موعود اتم کو مخاطب کرنے سے کتراتا تھا لیکن اگر ضرورت پڑ جاتی اور مجبورا مخاطہ کرنا پڑتا تو تم کہ کر مخاطب کرتا تھا۔چنانچہ مجھے اس دوست کی موجودگی میں آپ سے کوئی بات کرنی بیری اور میں نے تم کا لفظ استعمال کیا۔یہ لفظ سن کر اس دوست نے مجھے بازو سے پکڑ لیا اور مجلس سے ایک طرف لے گئے اور کہا "میرے دل میں آپ کا بڑا ادب ہے لیکن یہ ادب ہی چاہتا ہے آپ کو آپ کی غلطی سے آگاہ کروں۔اور وہ یہ کہ آپ کو حضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مخاطب کرتے وقت کبھی کبھی تم کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیئے۔بلکہ آپ کے لفظ سے مخاطب کریں۔ورنہ آپ نے پھر یہ لفظ بولا تو جان لے لوں گا۔مجھے تو تم کا لفظ استعمال کرتے رہنے کی وجہ سے تم اور آپ میں کوئی فرق محسوس نہ ہوتا تھا بلکہ میں آپ کی نسبت تم کے لفظ کو زیادہ پسند کرتا تھا۔او حالت یہ تھی کہ آپ کا لفظ بولتے ہوئے مجھے بوجہ عادت نہ ہونے کے شرم سے پسینہ آجاتا تھا کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ آپ کہنا جرم ہے۔مگر اس دوست کے سمجھانے کے بعد میں آپ کا لفظ استعمال کرنے لگا اور ان کی اس نصیحت کا اثر اب تک میرے دل میں موجود ہے۔اسی طرح ایک دفعہ میں نے لاہو۔آنے پر یہاں بعض لڑکوں کو ٹکھٹائی لگاتے دیکھا اور میں نے بھی شوق سے ایک نکٹائی خرید لی اور سینی شروع کر دی گورداسپور ہی کا واقعہ ہے کہ وہی مرحوم دوست مجھے پکڑ کر ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے " آج آپ نے نکٹائی پہنی ہے تو ہم کل کتنچینیوں کا تماشہ دیکھنے لگ جائیں گے کیونکہ ہم نے تو آپ سے سبق سیکھنا ہے۔جو قدم آپ اٹھائیں گے ہم بھی آپ کے پیچھے چلیں گئے یہ کہ کر انہوں نے مجھ سے نکٹائی مانگی اور میں نے اتار کر ان کو دے دی اور