سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 80 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 80

مجھے فکر یہ ہوئی کہ اگر مجھے غلط فہمی ہوتی ہے یا بتانے والے کو ہوئی ہے، دونوں صورتوں میں الزام مجھے پر آئے گا کہ میں نے جھوٹ بولا مولوی عبد الکریم صاحب نے جواب دیا۔ہاں حضور ! آج واقعہ میں بہت لوگ تھے۔میں اب بھی نہیں جانتا کہ اصلیت کیا تھی۔خُدا نے میری بریت کے لئے یہ سامان کر دیا کہ مولوی صاحب کی زبان سے بھی تصدیق کرا دی کہ فی الواقعہ اس دن غیر معمولی طور پر لوگ آتے تھے۔بہر حال یہ ایک واقعہ ہے جس کا آج تک میرے قلب له پر گہرا اثر ہے یہ بچوں کو عموماً یہ خدا داد ملکہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے دلی رجحانات سے کم عمری کے باوجو د بخوبی واقف ہو جاتے ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ وہ در اصل کن کن اقدار کو اولیت دیتے ہیں۔یہ عمومی تاثر جو بچوں کے دل پر اپنے ماں باپ کے بارہ میں پڑتا ہے، وہ اُن کی عادات واطوار کو ڈھالنے میں ایک بڑا بھاری کردار ادا کرتا ہے پس مندرجہ بالا ہر دو واقعات کے نتیجے میں حضرت مرزا محمود احمد صاحب کے دل میں قومی حمیت اور فرائض کی ادائیگی کی اہمیت اتنے گہرے طور پر جاگزیں ہو گئی کہ مستقلاً آپ کے مزاج کا ایک نمایاں وصف بن گئی۔حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کی تربیت کا رنگ جیسا کہ بیان کیا گیا ہے، بڑا لطیف تھا اور عموماً نرم و نازک پیار کی باتوں سے اور نیک توقعات کے اظہار کے ذریعے بچوں سے ایسی باتیں منوا لیا کرتے تھے کہ بسا اوقات زبانی یا جسمانی سختی کے طریق وہاں ناکام رہ جاتے ہیں۔آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ کبھی بچہ ایک کھانے کی چیز ضرورت سے زیادہ اُٹھا لیتا ہے۔ماں باپ اُسے جھڑکتے اور خفا ہوتے ہیں۔چھینا جھپٹی پر بھی اتر آتے ہیں لیکن بچہ اُن کی بات ماننے کی بجائے ضد اور بغاوت میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔حضرت مرزا صاحب کا طریق کار ایسے مواقع پر بالکل مختلف ہوتا تھا اور اس کا نتیجہ بھی بالکل الگ نکلتا۔چنانچہ حضرت مرزا صاحب علیه السلام کے ایک مخلص مرید سید فضل شاہ صاحب بیان کرتے ہیں :- ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام چوبارے کے صحن میں بیٹھے تھے اور بادام آگے رکھے تھے۔میں بادام توڑ رہا تھا کہ اتنے میں حضرت ن الفضل مارجون ۱۹۲۵ ص