سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 57 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 57

مؤثر الذکر طبقہ جو در اصل اس پیشگوئی میں پی پی رکھنے والوں کی اکثریت پر مشتمل تھا اور جس دلچسپی میں بکثرت مولوی بھی شامل تھے اور پادری بھی اور پنڈت بھی اور محنت اور پر فقیر بھی پیشگوئی کے شائع ہوتے ہی اس کی نامرادی کا انتظار کرنے لگے۔بعض تو ان میں سے ایسے تھے کہ وقت سے قبل ہی تمسخر اور استہزاء میں مصروف ہو گئے۔اور بعض بڑی بے صبری سے موقع کے انتظار میں دن کاٹنے لگے۔اس پیشگوئی کے بعد پہلی ولادت میں حضرت مرزا صاحب کے ہاں ایک بچی پیدا ہوئی۔۵ را پر مل شاہ کو بچی کا پیدا ہونا تھا کہ اس طبقہ کی طرف سے ہنسی ٹھٹھے کا ایک شور بلند نہوا اور مخالف اخبارات میں ہے در پے اعلانات ہوتے کہ "مرزا کی پیشگوئی جھوٹی نکلی۔حضرت مرزا صاحب نے ان مخالفین کو بارہ بار توجہ دلائی کہ پیشگوئی میں یہ خبر تو دی ہی نہیں گئی کہ اس پیشگوئی کے بعد میہلا بچہ لڑکا ہی ہو گا۔بلکہ واضح طور پر اس موعود بچے کے نو سال کے عرصہ میں پیدا ہونے کا ذکر تھا۔لیکن باوجود اس حقیقت سے آگاہ ہونے کے مخالفین ایک مدت تک انجان بنے رہے اور تمسخر اور استہزار سے دل بہلا کر اپنے اپنے دینوں کی بزعم خود بھاری خدمت سرانجام دیتے رہے۔بلاش به تاریخ ابنا تے عالم کسی دوسرے ابن آدم کی پیدائش سے قبل ایسے ہنگامہ کا منظر پیش نہیں کرتی اور اس کی کوئی نظیر مذہبی یا غیر مذہبی دنیا میں بھی نہیں ملتی کہ ایک بچہ جو ابھی پیدا بھی نہ ہوا ہو ، محل نزاع بن جاتے اور اس کا امکانی وجود کروڑوں انسانوں کی بحث کا موضوع ہو جائے اور مختلف مذاہب کے ہزار ہا رہنما اس کی پیدائش سے قبل دل کی گہرائیوں سے یہ آرزو کریں کہ کاش وہ پیدا ہی نہ ہو۔اور اگر وہ پیدا ہو بھی جاتے تو خدا کرے کہ لولی لنگڑا یا مفلوج اور ہزارہ قسم کے عیوب لئے دنیا میں آئے تا کہ ان کے جذبہ بغض و عناد کو تسکین ملے اور حاسدوں کے دلوں کو ٹھنڈک نصیب ہو۔پھر جس کے متعلق لاکھوں دلوں میں یہ تمنائیں مچلتی ہوں کہ اگر وہ صحت مند ہی پیدا ہو جائے تو کاش ایسا ہو کہ وہ اُن کی آنکھوں کے سامنے پروان چڑھنے سے پہلے ہی مر جاتے یا بہت سے ایسے وبال اُس پر آپڑیں کہ کسی کام کے قابل نہ رہے۔یعنی زندہ رہے بھی تو اپنے چاہنے والوں کے دلوں کا ناسور بن کر زندہ رہے۔یہ وہ منفرد بچہ تھا جس کی پیدائش سے قبل مذہبی دنیا نے ایک ایسا دلچسپ واقعاتی ڈرامہ دیکھا جس میں وہ تمام عناصر جمع ہوگئے تھے جو ایک ڈرامہ کی روح رواں ہوتے ہیں۔آیتے ! دیکھیں کہ مستقبل پر پڑا ہوا غیب کا تاریک پر دہ کب اٹھتا اور ہمیں کیا دکھاتا ہے ؟۔۔جب حاسدین اور مخالفین کے اس موخر الذکر گروہ میں جس کا ذکر چل رہا ہے، آریہ مت کا نامور پہلوان لیکھرام بھی دندناتا ہوا آن کو دا۔حضرت مرزا صاحب کے مدمقابل تمام مذہبی رہنماؤں میں وہ واحد