سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 51
۵۱ " و ما اسمہ مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کرکے فرمایا :- میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اُس کے موافق جو تو نے مجھے سے مانگا۔سو میں نے تیری تفرعات کو سنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بہ پائیہ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو (جو ہوشیار پور اور لو دھیانہ کا سفر ہے تیرے لئے مبارک کر دیا۔سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح و ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔اسے مظفر تجھ پر سلام خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہان میں موت کے پنجے سے نجات پادین اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے میں باہر آدین اور تا دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور ناحق اپنی تمام برکتون کے ساتھ آجائے اور باطن اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور ہا لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں جو چاہتا ہوں سو کرتا ہوں۔اور تا وہ یقین امین کہ مین تیرے ساتھ ہون اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور پاک رسول محمد مصطفے کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایک کھلی نشانی ہے۔اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جاتے۔سو مجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ایک رکھ غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔وہ لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔اس کا نام عنمو ائیل اور بشیر بھی ہے۔اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ جس سے پاک ہے اور منی نور اللہ ہے۔مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ن صاحب شکون اور عظمت اور دولت ہوگا۔وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے میچی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔وہ کلمہ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت و غیوری نے اُسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ہ سخت زمین و نسیم ہوگا۔اور دن کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔اور وہ