سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 40
۴۰ وہ انتہائی سنگین جرائم جن کی پاداش میں مسلمان علمامہ کا غضب آپ پیر نازل ہوا یہ تھے :- ا آپ کا دعویٰ کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔آپ کا یہ دعوئی کہ آنے والا مصلح امت محمدیہ میں پیدا ہونا تھا مسیح اس کا صفاتی نام ہے جو بطور استعارہ استعمال کیا گیا ہے۔آپ کا دعوئی کہ آپ ہی خدا تعالیٰ کی طرف سے اس مشن پر مامور کئے گئے ہیں توسی موعود کا مشن تھا اور آپ ہی کا صفاتی نام مسیح ہے۔لہذا اب مزید کسی نئے آنیوالے کا انتظار بے سود ہے۔آپ کا دعوئی کہ خدا تعالیٰ آج بھی اپنے بندوں سے اسی طرح ہم کلام ہوتا ہے جس طرح پہلے ہوتا تھا۔اسکی کوئی صفت معطل نہیں ہوتی۔اور عقل بھی انسان کسی ایسے تاریخی خدا پر ایمان نہیں لا سکتا جو اگلے وقتوں کے انسانوں سے تو بولتا آیا ہو لیکن ایک وقت کے بعد وہ ہمیشہ کے لئے چُپ رہنے کی قسم کھائے۔آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ واقعات بھی اس لغو تصور کو جھٹلارہے ہیں کہ خدا اپنے بندوں سے وحی و الہام کا تعلق تو بیٹھا ہے۔چنانچہ سینکڑوں مسلمان اولیاء اور اقطاب سے اللہ تعالیٰ کا ہمکلام ہونا ثابت ہے اور اس زمانہ میں خود آپ سے (حضرت مرزا صاحب علیہ السلام سے خدا تعالیٰ بکثرت ہمکلام ہوتا ہے اور وحی و الہام اور کشوف درویار کے ذریعے بالواسطہ اور بلا واسطہ دونوں طریق پر آپ کو اپنے ارشادات سے نوازتا ہے۔جو بکثرت غیب کی خبروں پر مشتمل ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی معجزانہ تائید کی بشارتیں لے کر آتے ہیں اور ایسے امور کا انکشاف کرتے ہیں جو کسی منجم یا الکل چو مارنے والے پیشین گو کی پانچو حد استعداد سے باہر ہوتے ہیں۔غرضیکہ کسی عاجز انسان کی مجال نہیں کہ الہام الہی کی مدد کے بغیر ان پر قدرت پا سکے۔مندرجہ بالا وجوہ مخالفت کے علاوہ آپ کا یہ دعوی بھی علماء کی شدید ناراضگی کا موجب بنا کہ جیسا کہ احادیث نبوی میں آنے والے مصلح یعنی مسیح موعود کو نبی اللہ کہا گیا تھا۔اللہ تعالٰی نے آپ کو بار ہا نبی اللہ کے نام سے مخاطب فرمایا۔مگر یہ نبوت کوئی مستقل اور اور آزاد نبوت نہیں، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل سے عطا ہونے والی خلیلی نبوت ہے۔یہ نبوت چونکہ کامل طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل ہے