سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 39
۳۹ احمدیت مخالفت کی بھٹی میں " حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کی شخصیت، آپ کے طرز فکر اور دعا دی کے مختصر تعارف کے بعد اب ہم ایک نظر ان نتائج پر بھی ڈالتے ہیں جو اس صورت حال کو بہر حال لازم تھے۔سلمان علماء اور مسلمان عوام کے سواد اعظم پر آپ کے طرز فکر اور دعاوی کا شدید معاندانہ رد عمل ہوا اور راس کماری سے لے کر درہ خیبر تک مخالفت کی ایک ہولناک تند خو آگ بھڑک اُٹھی۔آپ کو کا فراور ملحد اور دنبال قرار دیا گیا اور قتل " آپ کی اور آپ کے متبعین کی ادنی سزا تجویز کی گئی۔مخالفت کے جوش میں بعض علماء تو اس قدر آگے بڑھ گئے کہ آپ کے بارہ میں عجیب و غریب من گھڑت قصے عوام میں مشہور کر کے یہ تاثر دینے لگے کہ گویا نعوذ باللہ آپ وہ دجال میں جس کے فتنہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ سو سال قبل ڈرایا تھا۔مثال کے طور پر آپ کے بارہ میں یہ مشہور کر دیا گیا کہ آپ (نعوذ باللہ) دائیں آنکھ سے عاری ہیں، تاکہ ذہن اس دجال کی طرف منتقل ہو جائے جس کا ذکر پہلے کسی قدر تفصیل سے گزر چکا ہے۔لیکن اس مذموم کوشش کے وقت انہوں نے یہ نہ سوچا کہ اس افتراء کے بعد اس عجیب و غریب گدھے کو کہاں سے پیدا کریں گے جس پر سفر کر کے دقبال نے دنیا فتح کرنی تھی۔نیز یہ خیال بھی ان کے دل میں نہ گزرا که اگر نعوذ بالله یہ وہی درخیال ہے تو پھر تا وقتیکہ مسیح ابن مریم آسمان سے نہ اتریں کسی ماں نے وہ عالم پیدا نہیں کیا جو اس کا مقابلہ کر سکے۔قصہ مختصر صداقت اور خلوص کی جوسرا پہلے راستبازوں کو ملتی آئی ہے، وہ نہایت بھیانک صورت لئے ہوئے آپ کے حصے میں بھی آئی۔لیکن اس کا سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ تھا کہ اپنوں نے غیروں سے بڑھ کر ایذارسانی میں حصہ لیا اور آپ کے لئے فی ذاتہ یہ دکھے دوسرے تمام دکھوں سے ہوا تھا کہ مسلمان علماء اپنی مخالفت میں پادریوں اور پنڈتوں سے بھی بازی لے گئے۔اس کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :۔کا فرد ملحد و دخیال ہمیں کہتے ہیں نام کیا کیا عظیم ملت میں رکھا یا ہم نے ترے منہ ہی کی قسم میرے پیارے احمد تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے