سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 34 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 34

۳۴ موقف اختیار فرمایا وہ بیک وقت دل و دماغ دونوں کو مطمئن کرنے والا ہے اور ایمان کو بھی اسی طرح رضامند کرتا ہے جیسے عقل کو۔سب سے بڑھ کر یہ کہ قرآن اور حدیث کے درمیان کوئی تفاوت پیدا نہیں ہونے دیتا بلکہ ایک کو دوسرے کا موید قرار دیتا ہے۔اختصار کے ساتھ یہ موقف درج ذیل کیا جاتا ہے: جس طرح خروج دجال کی پیشگوئی معنی خیز تمثیلات پر مشتمل تھی اسی طرح نزول مسیح کی پیشگوئی بھی استعارہ کی زبان میں ہے۔قتل دجال سے مراد نہ تو کسی ایک دیو قامت مخلوق کا قتل کرنا تھا نہ کسر صلیب سے مراد ظاہری صلیبوں کا توڑنا۔اسی طرح قتل خنزیر سے بھی یہ مراد نہ تھی کہ نعوذ باللہ حضرت عیسی الله انزول کے بعد دنیا بھر کے سور مارتے پھریں گے۔حتی کہ خود مسیح سے مراد بھی پرانے مسیح نہیں کیونکہ قرآن کریم واضح طور پر ان کی وفات کی خبر دیتا ہے۔پس قرآن اور حدیث میں کوئی تناقض نہیں۔قرآن جس مسیح کے مرنے کی خبر دیتا ہے وہ حقیقی مسیح تھا اور حدیث جس سیح کے آنے کی خبر دیتی ہے وہ تمنیلا مسح کا نام پانے والا موعود مصلح ہے جس نے اُمتِ محمدیہ ہی میں محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں میں سے پیدا ہونا تھا۔آپ نے مسلمانوں کو خبردار کیا کہ صلیب توڑنے کی پیشگوئی کے ظاہری معنے لینا محض جہالت اور پیشنگوئی کی عظمت کو گرا دینے کے مترادف ہے۔صلیب توڑنے کے معانی آپ نے یہ بیان فرمائے کہ آنے والا موعود حقانی دلائل کے ساتھ صلیبی فتنے کی کمر توڑ دے گا اور بگڑے ہوئے عیسائی عفت ائد کے خلاف ایسے قومی اور کاری برامین پیش کرے گا کہ جو صلیبی عقائد کو پارہ پارہ کر دیں۔اسی طرح آپ نے وضاحت فرمائی کہ خنزیر کو قتل کرنا بھی کوئی ظاہری نعل نہیں ورنہ مانا پڑے گا کہ حضرت بیٹے کی زندگی کے بقیہ دن انتہائی پیرانہ سالی کے عہد میں دنیا بھر کے جنگلوں یا دریا کے بیلوں میں بدمست پھرنے والے سوروں کی تلاش، تعاقب اور اُن کے شکار میں کٹ جائیں گے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ استعادة استعمال فرماتے تھے جن کا مطلب صرف یہ تھا کہ آنے والا سیح نا پاک اور خبیث اخلاق کو مٹائے گا اور دخیال کی گندی تہذیب کا قلع قمع کرے گا۔اس سوال پر بھی آپ نے سیر حاصل بحث فرمائی کہ آنے والے مصلح کو مسیح کا لقب دینے میں کیا حکمت تھی۔آپ نے فرمایا کہ آنے والے مسیح محمدی اور مسیح موسوی کے درمیان چونکہ بہت سی مشاہتیں پائی جانی تھیں، لہذا آنے والے کا نام تمثیل مسیح ابن مریم رکھ دیا گیا۔جیسے کسی بہادر کو رستم یا کسی بہت سخی انسان کو حاتم طائی کہ دیا جاتا ہے جو ماثلتیں آپ نے بیان فرما ہیں ، ان میں سے بعض حسب ذیل ہیں :-