سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 30
زمانہ میں دجال نے خروج کر کے دُنیا میں تباہی پھیلانی تھی اور حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے نازل ہو کر اُسے ہلاک کرنا صلیب کو توڑنا، سوروں کو قتل کرنا اور مسلمان کے درمیان ایک عادل منصف کے طور پر اُن کے اختلافات کا فیصلہ فرما تھا ؟ (ج) حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے وصال کی خبر امت محمدیہ کے لئے ایک افسوسناک سانحہ کا حکم رکھتی ہے یا پُر مسرت نوید کی ؟ اور اس کے مخالف یا موافق کیا اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں ؟ ان سوالات میں سے حجز الف کا جواب بہت طویل اور تفصیلی ہے۔حضرت مرزا صاحب علیہ السلام نے قرآن کریم کی تیس آیات سے نیز بیشتر احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہایت قوی استدلال کے ساتھ یہ ثابت فرما دیا ہے کہ قرآن کریم اور حدیث نبویہ کی رو سے حضرت پیسے علیہ السلام کا نہ صرف یہ کہ زندہ آسمان پر جانا ثابت نہیں بلکہ اس کے بر عکس قطعی وفات ثابت ہوتی ہے۔آپ کی مختلف کتب میں یہ یہ دلائل بکثرت بیان ہوتے ہیں جن میں سے بالخصوص نزول ایسے اور ازالہ اوہام " اس مسئلہ پر حاصل بحث کرتی ہیں۔حضرت مرزا صاحب نے صرف نقلی دلائل ہی کو پیش نہیں کیا بلکہ زبر دست عقلی دلائل بھی اپنے دعوئی کی تائید میں پیش فرمائے۔اسی طرح آپ نے صرف اس دعونی پر ہی اکتفا نہ فرمائی کہ حضرت مسیح آسمان کی طرف نہیں اٹھائے گئے بلکہ ان کا زیر زمین مدفون ہونا بھی ثابت فرما دیا۔اس سلسلہ میں آپ کی معرکۃ الآرا تحقیق "مسیح ہندوستان میں اس لائق ہے کہ ہر محقق گری توجہ سے " اس کا مطالعہ کرے۔یہ تحقیق ایک حیرت انگیز تاریخی انکشاف ہے۔جزء ب میں جو سوال اُٹھایا گیا ہے اس کا جواب بھی تفصیل کے ساتھ حضرت مرزا صاحب علیہ السلام نے اپنی مختلف کتب میں بڑے دلچسپ پیرایہ میں بیان فرمایا ہے جس کا خلاصہ قارئین کی دلچسپی کے لئے درج ذیل کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے خبر پاکر آپ نے دجال کے خروج اور مسیح ابن مریم کے نزول کی گتھیوں کو ایسے نہسن پیرایہ میں سلجھایا کہ دل عش عش کر اٹھتا ہے۔آپ نے بتایا کہ دجال کے خروج کی پیشگوئی ہو تا مسیح کے نزول کی یہ دونوں ہی نہایت لطیف تمثیلات اور استعارات پر مشتمل ہیں جنہیں ظاہر پر محمول کر کے انسان حقیقت سے ہٹ کر بہک جاتا ہے۔چنانچہ آپ کی پیش کردہ وضاحت کے مطابق وہ دجال میں نے مسیح ابن مریم کے نزول سے قبل خروج کرنا تھا، کوئی ایسا مافوق الفطرت دیو نہیں تھا جیسے ہم بڑی بوڑھی عورتوں کے قصوں کہانیوں میں سنتے ہیں بلکہ اس سے مراد ایک ایسی قوم تھی جو اپنے انتہائی دجل اور دھو کہ آمیز