سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 28
۲۸ میں تنافق کیوں پیدا ہو گیا۔سو اس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہینِ احمدیہ میں میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہو گا ، مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا سیح میں ہی ہوں۔اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگرچہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسی رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسی آسمان پر سے نازل ہوں گئے اس لئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر حمل کرنا نہ چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا اور اسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی الہی نازل ہوئی کہ وہ پیح موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے۔اور ساتھ اس کے صد با نشان ظہور میں آئے۔اور زمین و آسمان دونوں میری تصدیق کے لئے کھڑے ہو گئے۔اور خدا کے چمکتے ہوتے نشان میرے پر جبر کر کے مجھے اس طرف لے آئے کہ آخری زمانہ میں سیح آنے والا میں ہی ہوں، ورنہ میرا اعتقاد تو وہی تھا جو میں نے براہین احمدیہ میں لکھ دیا تھا۔اور پھر میں نے اس پر کفایت نہ کر کے اس وحی کو قرآن شریف پر عرض کیا۔تو آیات قطعیۃ الدلائت سے ثابت ہوا کہ در حقیقت مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور آخری خلیفہ مسیح موعود کے نام پر اسی اُمت میں سے آئے گا اور جیسا کہ جب دن چڑھ جاتا ہے تو کوئی تاریخی باقی نہیں رہتی ، اسی طرح صد با نشانوں اور آسمانی شہادتوں اور قرآن شریف کی قطعیۃ الدلالت آیات اور نصوص صریحہ حدیثیہ نے مجھے اس بات کے لئے مجبور کر دیا کہ میں اپنے تین مسیح موعود مان لوں میرے لئے یہ کافی تھا کہ وہ میرے پر خوش ہوں مجھے اس بات کی ہرگز تمنا نہ تھی۔میں پوشیدگی کے حجرہ میں تھا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تھا اور نہ مجھے یہ خواہش تھی کہ کوئی مجھے شناخت کرئے اس نے گوشتہ تنہائی سے مجھے جبراً نکالا۔میں نے چاہا کہ میں پوشیدہ رہوں اور پوشیدہ مروں مگر اس نے کہا کہ میں تجھے تمام دنیا میں عزت کے ساتھ