سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 27 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 27

وفات مسیح ناصرتی کا ولولہ خیز اعلان اور مسیحیت کا دعوئے نشہ کا سال تاریخ احمدیت میں ایک عظیم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔یہی وہ سال ہے جس میں اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے یہ حیرت انگیز انکشاف فرمایا کہ سیح بانی ناصری علیہ السلام ، جن کو اس زمانے کے مسلمان اور عیسائی دونوں ہی آسمان پر زندہ رونق افروز تسلیم کرتے تھے طبعی موت سے وفات پاچکے ہیں اور وہ مسیح جس کے دوبارہ نازل ہونے کا وعدہ دیا گیا تھا وہ خود حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام ہی ہیں۔آپ کا یہ اعلان اس الہام الہی کے نتیجہ میں تھا کہ : مسیح ابن مریم رسول اللہ نوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے۔اگر چہ اس الہام سے قبل بھی آپ کو بارہا مسیح ناصری علیہ السلام کی وفات کی مختلف رنگ میں خیر دی جاچکی تھی اور بار ہا آپ کو مسیح کے لقب سے یاد کیا گیا تھا مگر کچھ تو مسلمانوں کے رائج الوقت عقیدہ کی وجہ سے اور کچھ اپنی طبعی انکساری کے باعث آپ ان الہامات اور القابات کو استعارہ قرار دیتے رہے۔چنانچہ آپ اس ضمن میں تحریر فرماتے ہیں :- " اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھے ان باتوں سے نہ کوئی خوشی ہے نہ کچھ غرض کہ میں مسیح موعود کہلاؤں یا سیح ابن مریم سے اپنے میں بہتر ٹھہرا ہوں۔خدا نے میرے ضمیر کی اپنی اس پاک وحی میں آپ ہی خبر دی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے قُلْ أَجَرَّدُ نَفْسِي مِنْ ضُرُوبِ الْخِطَابِ - یعنی اُن كوك کو کہ دے کہ میرا تو یہ حال ہے کہ میں کسی خطاب کو اپنے لئے نہیں چاہتا۔یعنی میرا مقصد اور میری مراد ان خیالات سے برتر ہے اور کوئی خطاب دینا یہ خدا کا فعل ہے میرا اس میں دخل نہیں ہے۔رہی یہ بات کہ ایسا کیوں لکھا گیا اور کلام ے تذکره صا طبع سوم شه