سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 355
۳۵۵ خلیفہ وقت کی غلطیوں کی نشاندہی اور اُن کے چرچے مذکورہ بالا فتنہ کی ایک شکل یہ بھی بنتی ہے کہ خلیفہ کے فیصلہ جات پر پہلے دبی زبان سے تنقید کی جاتی ہے چر حسب حالات کھل کر اُن کی مذمت کی مہم چلائی جاتی ہے۔ایسے نتے۔بعض اوقات عمومی شکل بھی اختیار کر جاتے ہیں اور تمام جماعت سے تعلق رکھنے والے مرکزی فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن اکثر اوقات یہ محدود دائرے سے تعلق رکھتے ہیں۔بعض قضائی یا انتظامی فیصلے ایسے ہوتے ہیں که لازما خلیفہ المیے کا فیصلہ ایک فریق کے حق میں اور ایک فریق کے خلاف ہو گا۔اس صورت میں متفقین کی ہمدردیاں حق اور ناحق کی تمیز کے بغیر بلا استثنا متاثرہ فریق سے ہوتی ہیں اور وہ انسانی ہمدردی اور اخلاق حسنہ کے پردہ میں متاثرہ دوستوں سے ایسی لگاوٹ کی باتیں کرتے ہیں جو رفتہ رفتہ خلیفہ وقت کے خلاف منافرت انگیزی پر منتج ہو جاتی ہیں۔حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی الله عنه نے جب منکرین خلافت کا بڑی سختی سے محاسبہ کیا تو فتنہ کی یہی شکل اس موقع پر بھی رونما ہوئی۔اور اندر اندر ایک دوسرے کے ساتھ اس رنگ میں ہمدریاں کی جانے لگیں گویا وہ سخت مظلوم اور حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی تیخ ستم کاشتہ ہیں۔فتوں کی تاریخ میں شکل بھی بہت قدیمی ہے اور اسی طرح مردود ہے جس طرح دیگر اقسام۔اپنی پسند کے آدمیوں کو مسلط کرنے کا الزام ایک الزام حضرت خلیفہ المسح الاول نیز یہ لگایا گیا کہ یہ اپنی پسند کے آدمیوں کو (جو معتر حنین کی نظر میں نا اہل تھے ) جماعت پر مسلط کر رہے ہیں۔یہ اُسی نوعیت کا الزام ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مبارک عہد میں ایک نہایت خطرناک وبا کی صورت میں پھوٹا تھا دراصل ہر زندہ حقیقت کے ساتھ موت کی منحوس صورتیں ہمیشہ نبرد آزما رہی ہیں اور رہیں گی اور ان وباؤں کے ساتھ مقابلہ میں جب بھی کوئی زندہ جماعت غالب آتی ہے تو اس نوعیت کے دوسرے فتنوں کے مقابلے کی پہلے سے بڑھ کر طاقت اس میں پیدا ہو جاتی ہے۔اور اس ازلی ابدی حقیقت کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا کہ ہر زندہ حقیقت کو موت یا اس سے مشابہ توتوں کے ساتھ نبرد آزما رہنا پڑتا ہے اور اس میں اس کے ارتقا