سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 352
۳۵۲ امام الزمان سے جس مطلب کے واسطے وہ مجدد کیا گیا وہ مطالب حاصل کروں۔اگر اجازت ہو تو میں نوکری سے استعفیٰ دے دوں اور دن رات خدمت عالی میں پڑا رہوں یا اگر حکم ہو تو اس تعلق کو چھوڑ کر دنیا میں پھروں اور لوگوں کو دین حق کی طرف بلاؤں اور اسی راہ میں جان دے دوں۔میں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔میرا جو کچھ ہے میرا نہیں آپ کا ہے حضرت پیر و مرشد میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہو جائے تو میں مراد کو پہنچ گیا ہے اس بحث میں یاد رکھنے کے لائق نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقدس بندوں پر اس قسم کے اعتراض کرنے والوں کو خواہ وہ پہلے گزرے ہوں یا بعد میں آئیں، آپ عموماً خود مالی قربانی کرنے والوں کی صف میں سب سے پیچھے کھڑا ہو آپائیں گے یا پھر محض تماش بینوں کی حیثیت رکھتے ہوں گے۔ایسے لوگوں کا مقصد نہ کبھی پہلے نیک ہوا نہ آئندہ ہوگا محض ریا کاری یا نفاق پھیلانے یا کسی ذاتی مجبش کا انتقام لینا ان کا مقصد ہوتا ہے۔یہ اعتراض کہ حق، حق دار کو نہیں پہنچا بلکہ کمتر شخص کو اختیار کر لیا گیا ہے حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ پر عائد کیا جانے والا یہ اعتراض بھی ہزاروں سال پرانا وہ اعتراض ہے جو منکرین نبوت انبیائے وقت پر کرتے رہے اور منکرین خلافت خلفائے وقت پر۔یہی اعتراض حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ پر اور بعد میں آنے والے خلفا پر بھی کیا گیا اور خدا جانے کب تک کیا جاتا رہے گا۔دراصل شیطان مومنین کی جماعت پر مختلف اطراف سے مختلف بھیس بدل کر حملہ آور ہوتا رہتا ہے۔کہیں وہ ان میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے کبھی مذہبی قیادت کے خلاف عدم اعتماد پیدا کرنے کی۔کبھی وہ پھیپھا کٹنی کا روپ دھار لیتا ہے اور یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ امام وقت سے بڑھ کر کوئی اور تمہارا ہمدرد اور مبنی خواہ موجود ہے۔کبھی وہ ظاہری ے روحانی خزائن (فتح اسلام) جلد ۳ ص ۳۵ - ۳۶