سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 341 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 341

۳۴۱ زیادہ ہے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم اور غریب نوازی پر ہماری امیدیں بے انتہا نہیں تم نے یہ بوجھ مجھ پر رکھا ہے تو سنو ! اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کے لئے میری مدد کرو اور وہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ سے فضل اور توفیق چاہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور فرمانبرداری میں میری اطاعت کرو۔میں انسان ہوں اور کمزور انسان مجھ سے کمزوریاں ہوں گی تو تم چشم پوشی کرنا۔تم سے غلطیاں ہوں گی تو میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر سمجھ کر عہد کرتا ہوں کہ میں چشم پوشی اور درگذر کروں گا۔اور میرا اور تمہارا متحدہ کام اس سلسلہ کی ترقی اور اس سلسلہ کی غرض و غایت کو عملی رنگ میں پیدا کرنا ہے پس اب جو تم نے میرے ساتھ ایک تعلق پیدا کیا ہے اس کو وفاداری سے پورا کرو تم مجھ سے اور میں تم سے چشم پوشی خدا کے فضل سے کرتا ہوں گا۔تمہیں امر بالمعروف میں میری اطاعت اور فرمانبرداری کرنی ہوگی۔۔۔اں میں پھر کہتا ہوں اور پھر کہتا ہوں کہ امر معروف میں میری خلاف ورزی نہ کرنا۔اگر اطاعت اور فرمانبرداری سے کام لو گے اور اس عہد کو مضبوط کرو گے تو یاد رکھو اللہ تعالیٰ کا فضل ہماری دستگیری کرے گا۔اور ہماری متحدہ دعائیں کامیاب ہوں گی۔۔جس کام کو مسیح موعود نے جاری کیا تھا اپنے موقع پر وہ امانت میرے سپرد ہوتی ہے۔پس دُعائیں کرو اور تعلقات بڑھاؤ اور قادیان آنے کی کوشش کرو اور بار بار آؤ۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سُنا ہے اور یا بہ بارسُنا ہے کہ جو یہاں بار بار نہیں آتا اندیشہ ہے کہ اس کے ایمان میں نقص ہو۔اسلام کا پھیلانا ہمارا پہلا کام ہے۔مل کر کوشش کرو تا کہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں اور فضلوں کی بارش ہو۔میں پھر تمہیں کہتا ہوں، پھر کہتا ہوں اور پھر میں کہتا ہوں اب جو تم نے بیعت کی ہے اور میرے ساتھ ایک تعلق حضرت مسیح موعود کے بعد قائم کیا ہے اس تعلق میں وفادار کی کا نمونہ دکھاؤ اور مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھو میں ضرور تمہیں یاد رکھوں گا۔ہاں یا درکھتا بھی رہا ہوں۔کوئی دُعا میں نے آج تک ایسی نہیں کی جس میں میں نے