سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 342
، سلسلہ کے افراد کے لئے دُعا نہ کی ہو۔مگر اب آگے سے بھی زیادہ یاد رکھوں گا۔مجھے کبھی پہلے بھی دُعا کے لئے کوئی ایسا جوش نہیں آیا جس میں احمدی قوم کے لئے دُعا نہ کی ہو۔پھر سنو کہ کوئی کام ایسانہ کرو جو اللہ تعالیٰ کے عہد شکن کیا کرتے ہیں۔ہماری دعائیں میں ہوں کہ ہم مسلمان جنگیں اور مسلمان مریں۔آمین یا دعا اور تقریر کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفة المسیح الثانی رضی الله عنه نے تعلیم الاسلام ہائی سکول کے شمالی میدان میں قریباً اڑھائی ہزار اشکبار مخلصین جماعت کے ساتھ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی اور پھر آپ کی معیت میں احباب حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی نعش مبارک کو لے کر بہشتی مقبرہ کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پہ پہنچ کر اس مبارک وجود کو ہزاروں دعاؤں کے ساتھ اس کے محبوب آقا کے پہلو میں دفن کیا۔حضرت اقدس خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے وصال کے ساتھ جماعت احمدیہ کی تاریخ کا ایک اور زریں باب بند ہوا اور ایک اور زریں باب کھلا۔اگرچہ مذہبی قوموں کی زندگی میں بھی تعظیم مخلص بنجا بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں اور قومی تاریخ کے اوراق پر اپنی عظمت کے انمٹ نقوش ثبت کر جاتے ہیں لیکن تو میں اُن کی زندگی سے زندگی تو پاتی ہیں، اُن کے مر جانے سے مر نہیں جاتیں۔بلکہ ایک عرب شاعر کے اس لازوال شعر کے مصداق ایک کے بعد دوسرا عظیم سردار اُن کے جھنڈے کو منبوط ہاتھوں میں تھامے ہوئے اُن کی رہنمائی کے لئے آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔زندہ قوموں کی کیسی سچی اور پاکیزہ تصویر اس شعر میں کھینچی گئی ہے کہ : اذا سید مناخلا قام سید قؤل لما قال الكرام فعوك یعنی جب ہم میں سے ایک سردار گزر جاتا ہے تو اس کی جگہ ویسا ہی ایک دوسرا اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔قوم کے صاحب اکرام بزرگوں نے جو اچھی باتیں کسی تھیں، وہ ویسی ہی اچھی باتیں بڑی کثرت سے کہتا ہے اور گفتار کا غازی نہیں بنتا بلکہ کردار کا بھی غازی ہوتا ہے۔جماعت احمدیہ کی تاریخ کا ہر باب جو ایک دور پر بند ہوتا اور ایک نئے دور پر کھلتا ہے اس شعر کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کرتا چلا جاتا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے بڑے مشکل مقام پر قدم رکھا تھا لیکن اپنی کمزور صحت الفضل ۲۱ مارچ ۱۹۱۷