سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 329 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 329

۳۲۹ ایک مشورہ کرنا ہے آپ ذرا مولوی محمد علی صاحب کے مکان پر تشریف لے چلیں۔آپ کے نانا جناب میر ناصر نواب صاحب کو بھی وہاں ملوایا گیا تھا۔جب آپ وہاں پہنچے تو مولوی محمد علی صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب مولوی صدر الدین صاحب اور ایک دو آدمی وہاں پہلے سے موجود تھے۔خواجہ صاحب نے ذکر شروع کیا کہ آپ کو اس لئے بلوایا ہے کہ حضرت مولوی صاحب کی طبیعت بہت ناسانہ اور کمزور ہے۔ہم لوگ یہاں ٹھہر تو سکتے نہیں۔لاہور واپس جانا ہمارے لئے ضروری ہے ہیں اس وقت دوپہر کو جو آپ کو تکلیف دی ہے تو اس سے ہماری غرض یہ ہے کہ کوئی ایسی بات طے ہو جائے کہ فتنہ نہ ہو اور ہم لوگ آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو خلافت کی خواہش نہیں ہے اور مولوی محمد علی صاحب بھی آپ کو یہی یقین دلاتے ہیں۔اس پر مولوی محمد علی صاحب بولے کہ مجھے بھی ہرگز خواہش نہیں۔اس کے بعد خواجہ صاحب نے کہا کہ ہم بھی آپ کے سوا خلافت کے قابل کسی کو نہیں دیکھتے اور ہم نے اس امر کا فیصلہ کر لیا ہے لیکن آپ ایک بات کریں کہ خلافت کا فیصلہ اسوقت تک نہ ہونے دیں جب تک ہم لاہور سے نہ آجا دیں۔ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص جلد بازی کرے اور پیچھے فساد ہو۔ہمارا انتظار ضرور کر لیا جاوے۔میر صاحب نے تو اُن کو یہ جواب دیا کہ ہاں جماعت میں فساد مٹانے کے لئے کوئی تجویز ضرور کرنی چاہیے مگر حضرت صاحبزادہ صاحب نے جن کو یکش کی گنتی تھی ، اس وقت کی ذمہ داری کو محسوس کر لیا اور صحابہ کا طریق آپ کے سامنے آگیا کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں دوسرے کے متعلق تجویز خواہ وہ اس کی وفات کے بعد کے لئے ہی کیوں نہ ہو نا جائز ہے۔پس آپ نے اُن کو یہ جواب دیا کہ ایک خلیفہ کی زندگی میں اس کے جانشین کے متعلق تعیین کر دینی اور فیصلہ کر دینا کہ اس کے بعد فلاں شخص خلیفہ ہوا گناہ ہے۔میں تو اس امر میں کلام کرنے کو ہی گناہ سمجھتا ہوں ے آئینہ صداقت ص۱۳۶