سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 321 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 321

ہم حضرت میاں صاحب کی رائے کے خلاف نہیں ہیں۔دوستوں کو غلط فہمی ہو گئی ہے۔ہمارا مقصد تو یہ ہے کہ دوسرے پہلوؤں پر بھی غور کیا جائے۔اور ابھی کوئی فیصلہ نہ کیا جائے۔بعد میں خط و ر کتابت کے ذریعہ مشورہ حاصل کر کے مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔لیکن حاضرین نے خواجہ صاحب کے اس گریز کو کوئی وقعت نہ دی۔اور اپنے فیصلہ پر قائم رہے۔بایں ہمہ کچھ عرصہ بعد اس بارہ میں جماعتوں سے جب دوبارہ بھی رائے طلب کی گئی تو ہر جماعت نے یہیں لکھا کہ وہی فیصلہ درست تھا جو ہم قادیان میں کر آئے ہیں۔اور ہرگز کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔قصہ مختصر حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی یہ شدید خواہش آخر یوری ہوتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دینی تعلیم کے انتظام کا جو پیج اپنے مبارک ہاتھوں سے بویا تھا وہ ایک علیحدہ منفرد درخت کی صورت میں قائم ہو اور پھولے پھلے اور قیامت تک اس کے ٹھنڈے ساتے اور رنگ و بو اور پھولوں اور پھلوں سے نوع انسانی کو فائدہ پہنچتا ہے۔اوائیل شن میں باقاعدہ اس مدرسہ کی بنیاد رکھ دی گئی اور نصاب کی تعیین و ترتیب کے لئے جو کمیٹی مقرر کی گئی اس میں بھی حضرت صاحبزادہ صاحب ممبر نا مرد کئے گئے۔مدرسہ احمدیہ کی بہبود اور ترقی کے لئے مزید خدمات حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی منظوری سے نشہ میں مدرسہ احمدیہ کی نگرانی کی ذمہ داری بھی آپ ہی کو سونپ دی گئی۔آپ کی اس نئی ذمہ داری سے قارئین کو مطلع کرتے ہوئے "اخبار الحکم رکھتا ہے :۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سلمہ اللہ حضرت خلیفہ المسیح منظلہ العالی کی زیر تربیت قوم کی بہترین امید ہو کر نشو و نما پارہے ہیں جیسا کہ خدا تعالیٰ نے اُن کے متعلق حضرت مسیح موعود و مغفور کو وعدہ دیا تھا ، اپنے کاموں سے اولوا الحرم ثابت ہو رہے ہیں اللهُم بِهِ : نَزِدْ مدرسہ احمدیہ کی نگرانی اور عمدہ انتظام کے لئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد قبلہ سلمہ اللہ الاحد مدرسہ احمدیہ کے انسپکٹر مقرر ہوتے ہیں۔صاحبزادہ صاحب کی توجہ مدرسہ احمدیہ کے لئے نہایت مفید اور