سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 318 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 318

PIA ہیں تو یک دفعہ آپ کو اس فکر سے اپنے پاؤں تلے سے زمین نکلتی ہوئی دکھائی دی کہ اگر خدانخواستہ جماعت نے تدریس امور دینیہ کو بند کرنے کا فیصلہ دے دیا تو احمدیت کے مستقبل کا کیا بنے گا۔بجلی کے گوندنے کی طرح یہ وہم آپ کے دل میں آیا اور گزند گیا اور اچانک الہی تصرف نے آپ کے دل و دماغ کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھام لیا اور طبیعت ایک غیر معمولی قوت اور جوش سے بھر گئی۔تب آپ نے کھڑے ہو کر بآواز بلند حاضرین مجلس سے کچھ بولنے کی اجازت طلب کی سوائے چند ایک کے سب نے بیک آواز کہا کہ ہاں، ہاں ! آپ ضرور ہو لئے۔اس پر آپ نے بڑی متانت لیکن انتہائی درد انگیز مسجد میں اپنی تقریر کا یوں آغاز فرمایا : " آپ نے جو فیصلہ کیا ہے یہ آپ کے خیال میں ٹھیک ہوگا۔مگر ایک چیز ہے جو میں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ ہمارے کام آج ختم نہیں ہو جائیں گے۔بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں سال تک ان کا اثر چلتا چلا جائے گا۔اور دنیا کی نگاہیں ان پر ہوں گی اور اگر ہم کسی کام کو چھپانا بھی چاہیں گے تو وہ نہیں مجھے گا۔بلکہ تاریخ کے صفحات پر ان واقعات کو نمایاں حروف میں لکھا جائے گا۔اس نقطہ نگاہ کو مد نظر رکھتے ہوئے میں آپ کی توجہ اس امر کی طرف پھیرنا چاہتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الموت سے بیمار ہوئے تو آپ نے اپنی وفات سے کچھ دن پہلے ایک لشکر رومی حکومت کے مقابلہ کے لئے تیار کیا۔اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اسکا سردار مقر فرمایا۔ابھی یہ لشکر روانہ نہیں ہوا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور سوائے مکہ اور مدینہ اور طائف کے سارے عرب میں بغاوت رونما ہو گئی۔اس وقت بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ نے مل کر مشورہ کیا کہ اس موقع پر اسامہ کا لشکر باہر بھیجنا درست نہیں کیونکہ ادھر سیارا عرب مخالف ہے۔اُدھر عیسائیوں کی زبر دست حکومت سے لڑائی شروع کر دی گئی تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلامی حکومت در نیم برہم ہو جائے گی۔چنانچہ انہوں نے ایک وفد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں روانہ