سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 22
اور صدق عقیدت سے یہ شعر زبان حال سے فرماویں گے کہ سے سب مریضوں کی ہے تمہیں یہ نگاہ تم مسیحا بنو خدا کے لئے سن شریف حضرت کا قریباً چالیں یا پینتالیس ہو گا۔اصل وطن اجداد کا ملک فارس معلوم ہوتا ہے۔نہایت خلیق صاحب مروت و حیا نوجوان رعنا چہرہ سے محبت الہی سکتی ہے۔اسے ناظرین! میں سچی نیت اور کمال جوش صداقت سے التماس کرتا ہوں کہ بے شک وشبہ جناب میرزا صاحب موصوف مجدد وقت اور طالبان سلوک کے لئے کبریت احمر اور سنگدلوں کے واسطے آفتاب اور گمراہوں کے لئے خضر اور منکرین اسلام کے واسطے سیف قاطع اور حاسدوں کے واسطے حجتہ بالغہ ہیں۔یقین جانو کہ پھر ایسا وقت ہاتھ نہ آئے گا۔آگاہ ہو کہ امتحان کا وقت آگیا ہے اور محبت الہی قائم ہوچکی ہے اور آفتاب عالمتاب کی طرح بدلائل قاطعہ ایسا با دستی کامل بھیج دیا ہے کہ بچوں کو نور بخشے اور ظلمات وضلالت سے نکالے اور جھوٹوں پر حجت قائم کرے وو (۳) براہین احمدیہ کے تیسرے تبصرہ نگار مولوی محمد شریف صاحب بنگلوری تھے جو مسلمانان ہند کے نهایت دیندار اور تقوی شعار صحافی اور شهور مسلم اخبار منشور محمدی" بانگھور کے مدیر شہیر تھے۔مولانا محمد ر اور شریف صاحب نے جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُونَا “ کے عنوان سے اپنے مبسوط اور پر زور تنصیرے میں لکھا :- ” منافقوں اور دشمنوں کے سارے جملے دین اسلام پر ہو رہے ہیں۔ادھر دھر یہ بین کا زور اُدھر لامذہبی کا شور کہیں برہمو سماج والے اپنے مذہب کو فیلسوفانہ تقریروں سے دین اسلام پر غالب کیا چاہتے ہیں۔ہمارے عیسائی بھائیوں کی پوری ہمت تو اسلام کے استیصال پر مصروف ہے اور ان کو اس بات کا یقین ہے کہ جب تک آفتاب اسلام اپنی پرتاب شعاعیں دنیا میں ڈالتا رہے گا تب تک عیسوی دین کی ساری کوششیں بیکار اور تثلیث تین تیرہ رہے گی۔غرض سارے مذہب اور تمامی دین والے یہی چاہتے ہیں کہ کسی طرح دین اسلام