سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 282
۲۸۲ جو خدا کے بڑے پیاروں کی جگہ ہے وہاں جاکر دعائیں کروں کہ مسلمان اس وقت بہت ذلیل ہو رہے ہیں۔اے خدا ! قوم نے مجھے کو چھوڑا۔نہ دین رہا نہ دنیا ر ہی کوئی تدبیران کی۔اصلاح کی کارگر نہیں ہوتی۔اس جگہ تو نے ابراہیم کو وعدہ دیا تھا اور اس کی دعا کو قبولیت کا شرف بخشا اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی دُعاؤں کو قبول کیا تھا۔آج پھر وہی دعائیں ہمارے لئے قبول فرما اور اہل اسلام کو عزت اور ترقی عطا کر جب ہماری دعائیں ایک حد تک پہنچیں گی تو وہ قبول ہوں گی ہمیں اپنے دوستوں سے دُعا ہی کی در بصورت کرتا ہوں۔دشمن بڑا زبردست ہے اور ہم کمزور بانگر ہمارا محافظ بھی بڑا زبردست ہے لیے آپ کے اس سفر سے متعلق آپ کی والدہ کے جذبات کی عکاسی اس خطہ کے مندرجہ ذیل اقتباس سے ہوتی ہے جو آغاز سفر ہی میں بہتی پہنچنے پر حضرت حصا حبزادہ صاحب کو موصول ہوا :- ر "مولوی صاحب کا مشون ھے کہ پہلے مجھ کو چلے جاؤ اور میرا جو اسے یہ ھے کہ میں تو دین کی خدمت کے واسطے تم کو اللہ تعالیٰ کی خدمت میں دے چکی ہوں۔اب میرا کوئی دعوی نہیں ان جو کسی دینی خدمت کو نہیں گئے بلکہ سیر کو گئے ان کو خطرہ تھا۔اور تم کو کوئی خطرہ نہیں۔خدا وند کریم اپنے خدمت گاروں کی آپ حفاظت کرے گا۔میں نے خدا کے سپرد کر دیا، تم کو خدا کے سپرد کر دیا۔اور سب بیان غیر دیتے ہے۔واله محمود احمد سه اس سفر کے دوران مختلف ایمان افروز اور عبرت آموز واقعات اور دلگداز قلبی کیفیات کا ایک بیش قیمت خزانہ آپکے اُن خطوط میں دفن ہے جو سفر کی روداد سے متعلق آپ نے حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کی خدمت میں اور دیگر رفقا اور اعزا کو لکھے لیکن افسوس کہ ان تمام کا یہاں نقل کرنا مکن اور نہیں۔ذیل میں اخبار الحکم کے مختصر نوٹ کے بعد حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں آپ کے لکھے ہوئے خطوط میں سے بعض پیش کرنے پر اکتفا کی جاتی ہے۔C له بده قادیان ۳ اکتوبر تامر حبت ه الفضل قادیان ۱۲۰ تو میر شه وی تاریخ احمدیت جلد ہم اس ۴۴۲ ۴