سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 274 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 274

کہ جہاں آپ کی وفات کے وقت دشمنوں نے وہ شور مچایا کہ الاماں!۔۔۔ہم وہی ہیں جو پہلے تھے لیکن خدا کا زبردست ہاتھ دنیا کو اپنے سلسلہ کی طرف کھینچ رہا ہے۔وہی لوگ ہیں، وہی تعلیم ہے، رہی خیالات ہیں، وہی عمل ہیں۔ہاں اگر فرق ہے تو یہ کہ وہ محمود وجود نہیں رہا۔اسے اندھی دنیا ! تو خدا کے برگزیدہ کا مقابلہ کر کے اور اُن سے حسد کر کے کیوں ہلاکت کے گڑھے میں پڑتی ہے۔تجھ پر افسوس اور سخت ہی افسوس! خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔شہر کے بہت سے روسا اس موقع پر آئے تھے اور اُن میں سے بعض اس سلسلہ کے سخت معاندین میں سے تھے لیکن عام طور پر سب پر اثر نیک ہوا اور سب نے معلوم کر لیا کہ اگر اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرنے والا کوئی گروہ ہے تو وہ میں فرقہ ہے۔اس دن کی کارروائی نہایت عمدگی سے ختم ہوئی۔دوسرے دن بھی اچھی رونق تھی۔میرا لیکچر بارہ وفات پر تھا۔جو کہ انشاء اللہ تعالیٰ رسالہ تشحید الا ذبان میں چھپ کر شائع ہو جائے گا۔اس دن بھی لوگوں پر بہت نیک اثر ہوا اور اُن کے دلوں سے وہ وحشت جو ہم سے رکھتے تھے کچھ دور ہوئی۔جلسہ ختم ہونے کے تھوڑی ہی دیر بعد میں دہلی کو روانہ ہوا۔اور صبح آٹھ بجے کے قریب وہاں پہنچ گیا۔یہی وہ شہر ہے کہ جس سے حضرت اقدس کی مخالفت نے اول ہی اول خطرناک صورت اختیار کی اور جہاں کے مشہور مولوی نذیر حسین کے فتوسی نے مسلمانوں میں مخالفت کا ایک عام جوش بھڑکا دیا۔مگر با وجود اس کے حضرت اقدس کو اس شہر سے ایک خاص انس رہا ہے۔آپ بار ہا فرمایا کرتے تھے کہ میں امید کرتا ہوں کہ دہلی کے وفات یافتہ بزرگوں کی رو میں ایک دن ضرور جوش میں آئیں گی اور اُن کی تڑپ سے یہ لوگ ہدایت پائیں گے۔آپ فرماتے تھے کہ وہ شہر جہاں اس قدر اولیا " اور بزرگ دفن ہیں، کہ جن کی تعداد زندوں سے بڑھ گئی ہے کیا اس کے باشندوں کو ہندا ہدایت کے بغیر چھوڑ دے گا ؟ غرض ایسے شہر میں آنا میرے لئے ایک عجیب بات تھی اور کسی کیفیتیں سیدا ہو رہی تھیں۔میں اس شہر میں جاتا ہوں جس کے لوگوں نے سب شہروں سے زیادہ حضرت اقدس کا مقابلہ کیا۔میں میں سوائے ایک دو آدمیوں کے کسی نے آپ کی سچائی کو قبول نہ کیا جس کے باشندوں نے آپ کے قتل کرنے کی ٹھانی جنہوں نے آپ کو کافر قرار دینے