سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 213 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 213

۳۱۳ کے کاموں میں رخنہ اندازی کرتا ہے۔اگر میں کوئی کام اپنے ذمہ لیتا ہوں تو مجھے سنایا جاتا ھے کہ میں حقوق کو اپنے قبضہ میں کرنا چاہتا۔ہوں اور قومی کاموں کو اپنے ہاتھوں میں لینا چاہتا ہوں اور اگر میں دل شکستہ ہو کر جدائی اختیار کرتا ہوں اور علیحد گی میں اپنی سلامتی دیکھتا ہوں تو یہ تہمت لگائی جاتی ہے کہ یہ قومی درد سے بے خبر ہے اور جماعت کے کاموں میں حصہ لینے کی بجائے اپنے اوقات کو رائیگاں گواتا ہے۔مگر مجھے جاننے والے جانتے ہیں کہ میں عام انسانوں سے زبان کام کرتا ہوں حتی کہ اپنی صحت کا بھی خیال نہیں رکھتا۔مگر اسے جانے دو۔مجھے تم خود ہی بتاؤ کہ وہ کونسا تفسیرا رستہ ہے جسے میں اختیار کروں۔خدا کے لئے مجھے اس طریقے سے آگا ہی دو میں پران دونوں راستوں کو چھوڑ کر میں قدم زن ہوں اللہ مجھے وہ سبیل بتاؤ جسے میں اختیار کروں۔آخر میں انسان ہوں۔خدا کے پیدا کئے ہوئے دو راستوں کے علاقہ تیسرا راستہ میں کہاں سے لاؤں ؟ صبح شام رات دن اُٹھتے بیٹھتے یہ باتیں سُن سُن کر میں تھک گیا ہوں۔زمین با وجود فراخی کے مجھ پر تنگ ہو گئی ہے اور آسمان با وجود رفعت کے میرے نئے قید خانہ کا کام دے رہا ہے۔اور میری و بی حالت ھے کہ حتى إذا ضَاقَتْ عَلَيْهُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمُ انْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَن لا مَلْجَا مِنَ اللهِ إِلا إِلَيهِ۔افسوس کہ میرے بھائی مجھ پر تہمت لگاتے ہیں اور میرے بزرگ مجھو یر بانی کرتے ہیں۔دنیا میں ڈیڑھ اربے آدمی بنتا ھے مگر مجھے تو سوائے خدا کے اور کولھے نظر نہیں آتا۔لوگ اس دنیا میں تنہا آتے اور بیان سے تنہار جاتے ہیں۔مگر میں تو تنہا آیا اور تنہا رہا اور تنہا جاؤں گا۔یہ زمین میرے لئے ویران جنگل ھے۔اور یہ بستیاں اور شہر میرے لئے التوبة ١١٨:٩